INTERVIEW

زندگی کا مشاہدہ

رفاقت حیات کے ساتھ ایک گفتگو

اوپر والی منزل ۔ رفاقت حیات ۔ القا پبلیکیشنز

ترکی کے معروف مصنف اورحان پاموک کہتے ہیں کہ ترکی کے ہر نوجوان کی طرح سترہ اور اکیس سال کے درمیان انہوں نے بھی شعر لکھنا شروع کئے  تھے مگر پھراس عادت سے توبہ تائب ہو کر فکشن کا رخ کیا۔کچھ ایسا ہی واقعہ رفاقت حیات کے ساتھ پیش آیا۔ ان کے اپنے بقول وہ بحر رمل میں شعر لکھتے، مگر شعر خودبخود بحر رجز میں جا گرتے۔ شاید اسی رمل و رجز کے چکر سے عاجز آ کر انہوں نے کہانی کا رخ کیا جس کیلئے ہم ان کے ممنون ہیں۔ ان سے میری شناسائی کتاب کی بجائے آواز کے ذریعے ہوئی۔ میں نے تصنیف حیدر کی آواز میں ان کا افسانہ “کفن بکس والا” سنا اور پھر ان کی افسانوں کی پہلی کتاب “خواہ مخواہ کی زندگی” پڑھی ۔

 رفاقت کا خاندان شمالی پنجاب سے ہجرت کر کے سندھ آیا، جہاں ان کی   پیدائش ضلع نوشہروفیروز کے قصبے محراب پور  میں ہوئی۔بعدازاں انہیں خاندان کے ساتھ کراچی اور پھر راولپنڈی منتقل ہونا پڑا۔ ان سب نقل مکانیوں ہی کا ثمر ہے کہ انہیں دیہاتی اور شہری دونوں طرح کی طرزحیات کو قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔

رفاقت کا شمار جدید اردو ادب کے معروف ادیبوں میں ہوتاہے۔ فکشن سے ان کا تعلق پرانا ہے۔ مگر انہوں نے اس مقام  تک پہنچنے میں عجلت نہیں برتی۔ بڑے صبر اور ریاضت سے کہانی کو پختہ کیا ہے۔ اور یہی پختگی اور ٹھہراؤ ان کی کہانیوں میں ملتا ہے۔ انگلیوں کی خفیف سی جنبش سے کردار کے پاتال ذہن کا رستہ وا کر دیتے ہیں۔ “شو ناٹ ٹیل” اور وہ بھی ایسا کہ پڑھنے والے کو بوجھل نہ لگے۔ زندگی کا مشاہدہ بھی قریب  سےاور تجربے کی بھٹی میں کیا ہے مگر نچلے اور محنت کش طبقے کے کرداروں کی عکاسی کرتے ہوئے قلم میں نہ تو جذباتی لرزش آتی ہے اور نہ ہی تمسخر کی بھنک تک ملتی ہے۔

وہ اب تک افسانوں کی دو کتابیں، “خواہ مخواہ کی زندگی” اور “اوپر والی منزل“، دو ناول “میرواہ کی راتیں” اور “رولاک” اور تنقید کی ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹی وی کیلئے بھی متعدد سکرپٹ لکھے ہیں۔ “اوپر والی منزل” ان کی تازہ ترین کتاب ہے۔

 

حماد رند: رفاقت صاحب، سب سے پہلے تو آپ کو آپ کے نئے افسانوں کی اشاعت پر مبارک ہو۔ آپ کے افسانوں کی پہلی کتاب خواہ مخواہ کی زندگی ۲۰۰۳ میں شائع ہوئی تھی۔ دوسری کتاب کیلئے اتنا طویل انتظار کیوں کرنا پڑا؟

رفاقت حیات: مبارک دینے پر آپ کا شکریہ۔ جی ہاں تقریباً 23 سال بعد میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ شائع ہوا ہے۔ اس طویل انتظار کی مختلف وجوہات ہیں۔پہلی غیر مستقل مزاجی کیوں کہ افسانے لکھنا میرا شوق ہے پیشہ نہیں۔ مجھے گھر چلانے کے لیے دیگر کام کرنے پڑتے ہیں۔ دوم اعتماد کی کمی یعنی مجھے یہ اعتماد کبھی نہ ہوسکا کہ میں کوئی بہتر یا  قابلِ ذکر لکھنے والا ہوں کیوں کہ جب میں اپنے مقدمین کے ادبی کارناموں کی طرف دیکھتا ہوں تو سر جھک جاتا ہے۔ان کے آگے خود کو ہیچ سمجھتا ہوں۔ سوئم چند برس کے لیے ادب سے یکسر لاتعلقی، جو گھریلو حالات کی وجہ سے مجھے اختیار کرنی پڑی۔ وہ تقریبا نو دس برسوں پر محیط تھی لیکن جب وہ ختم ہوئی تو میں نے پہلے سے لکھے ہوئے ناول “میرواہ کی راتیں”(جو مختصر ناول ہے) کو دوبارہ دیکھنا اور لکھنا شروع کیا۔ وہ 2015 میں اجمل کمال  صاحب کے رسالہ “آج” میں شائع ہوا اور پھر 2016 میں کتابی صورت میں چھپا۔اس کے بعد 2024 میں۔ دوسرااس وقت میرے پاس اتنے افسانے نہیں تھے کہ ان کی کوئی کتاب چھپوا لیتا۔

طویل انتظار کی ایک اور وجہ ناول نگاری کی طرف بڑھتا ہوا رجحان بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ جناب سلیم الرحمن صاحب نے میرے افسانے پڑھ کر مشورہ دیا تھا کہ  مجھے ناول لکھنا چاہیے۔ میرے  لیے بھی اپنے افسانوں کو سمیٹنا مشکل ہوتا جارہا تھا اور وہ  پھیلنے لگ جاتے تھے۔کئی افسانے اسی لیے ادھورے رہ گئے۔پھر مجھے خود بھی محسوس ہونے لگا کہ میرا طبعی میلان ناول کی طرف ہے۔سو تیئس برس کے اس  طویل
انتظار کی وجوہات یہی کچھ تھیں۔

میرے  لیے بھی اپنے افسانوں کو سمیٹنا مشکل ہوتا جارہا تھا اور وہ  پھیلنے لگ جاتے تھے۔کئی افسانے اسی لیے ادھورے رہ گئے۔

حماد رند: اپنے ادبی سفر کے متعلق بتائیے۔ آپ کو کن عوامل نے پڑھنے اور پھر لکھنے کی طرف مائل کیا؟ میں نے آپ کی کسی تحریر میں پڑھا تھا کہ آپ نے اپنے ادبی سفر کی ابتدا شاعری سے کی تھی۔ شاعری سے نثر کی طرف آنے کی کیا وجوہات تھیں، اور آپ نے شاعری کیوں جاری نہ رکھی؟

رفاقت حیات: پڑھنے کی عادت بچپن میں راسخ ہوگئی تھی لیکن وہ اردو میں بچوں  کے لیے لکھا گیا پاپولر ادب تھا جسے پڑھنے کا یہ  فائدہ  ہوا کہ پڑھنے کی لت لگ گئی۔میرے گھر انے میں کوئی ادیب نہیں ہوا۔ میں ہی پہلا شخص ہوں جو بگڑ کر اس کوچے میں آنکلا۔

میری ہمشیرہ اخبارِ جہاں، آداب عرض، دوشیزہ ڈائجسٹ وغیرہ منگواتی تھیں تو میں بھی انہیں پڑھتا تھا۔ میں نے عمرو عیار، ٹارزن، چھن چھلنگو، ٹوڈی، پھر اشتیاق احمد کی انسپیکٹر جمشید سیریز، انسپیکٹر کامران سیریز اور مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیریزتیرہ چودہ برس کی عمر تک چاٹ ڈالی تھیں۔ گھر میں والد کےلیے اخبار آتا تھا تو نیوز ہاکر سے نونہال، تعلیم و تربیت، باغ اور ٹوٹ بٹوٹ بھی منگایا کرتا تھا۔بڑے بھائی کو فلمی اور کرکٹ کے رسالے پسند تھے۔میں وہ بھی پڑھتا تھا۔ اس عمر میں اخبار بینی بھی شروع کردی تھی۔ میرے والد نے پندرہ سال کی عمر میں مجھے ڈیل کارنیگی کی کتاب “میٹھے بول میں جادو ہے” پڑھنے کو دی کیوں کہ وہ خود لائف انشورنس کا کام کرتے تھے۔ مجھے وہ کتاب پڑھنے میں کچھ زیادہ مزہ نہیں آیا۔

ادب پڑھنے کا آغاز شاعری سے ہوا کیوں کہ مجھے پندرہ سال کی عمر میں عشق ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ چھوٹی عمر کا عشق  زوردار ہوتا ہے تو اس کے زیرِ اثر میری توجہ  فوراًشاعری کی طرف ہوگئی۔ تب احمد فراز، محسن نقوی، منیرنیازی، فیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور دیر کچھ شعرا کو پڑھنا  اور ان کے زیرِ اثر ٹوٹی پھوٹی شاعری کرنا شروع کردی۔

ایک دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔ ہائی اسکول میں میرے ایک استاد تھے نور محمد شیدی۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں موسیقی سے بھی گہرا شغف تھا اور وہ ہارمونیم طبلے پر مشق کیا کرتے تھے۔ ان کے ایک دو شاگرد بھی تھے۔ انہیں میں نے اپنی ایک رومانوی نظم سنائی جو انہیں اچھی لگی اور انہوں نے اس نظم کو کمپوز کرکے ایک دن  مجھے گا کر سنائی تو میں حیران رہ گیا۔مجھے خوشی ہوئی۔

میٹرک کرنے کے بعد ایک سال بعد میرا خاندان  چند برس کے لیے سندھ سے  راول پنڈی  منتقل ہوگیا۔وہاں اپنے جیسے کچھ ہم خیال نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ وہ بھی شاعری کرتے تھے۔ ہم نے مل کر ایک ادبی تنظیم بنائی جس کا نام ینگ آئیڈیا تھا۔ اس کے زیرِ اہتمام دوستوں کے گھروں پر مشاعرے ہوتے تھے۔ میرے گھر پر بھی دو تین مشاعرے ہوئے۔ان مشاعروں میں ہم سب کی ملاقات پہلی مرتبہ کچھ اصیل اور پکے شاعروں سے ہوئی۔ ان میں اختر عثمان بھی شامل تھے۔ ان سے میری دوستی ہوگئی۔وہ میری شاعری کی اصلاح کرنے لگے۔وہ تنظیم تو کچھ عرصے بعد ختم ہوگئی لیکن اختر سے دوستی چلتی رہی۔

ادب پڑھنے کا آغاز شاعری سے ہوا کیوں کہ مجھے پندرہ سال کی عمر میں عشق ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ چھوٹی عمر کا عشق  زوردار ہوتا ہے

میں نے جب ریڈیو اسٹیشن راول پنڈی کے لیے اپنا پہلا ڈرامہ لکھنے کی کوشش کی تو اس کے دوران مجھے پہلی بار افسانہ لکھنے کا خیال آیا کیوں کہ پاپولر فکشن کا مطالعہ چھوڑ کر میں  سنجیدہ فکشن پڑھنے لگا تھا۔ بالکل آغاز میں میں نے گورکی کا ناول ماں پڑھا، کرشن چندر کے کچھ ناول اور  منٹو کے افسانے پڑھے۔قرت العین حیدر کا ناول آگ کا دریا  بھی پڑھا لیکن ایک رات راجندر سنگھ بیدی کے افسانے کے مطالعے نے جو اثر کیا اسے میں آج بھی محسوس کرتا ہوں۔گویا اس نے مجھے افسانہ لکھنے کا طریقہ سجھا دیا۔پھر بیدی صاحب کی کلیات خرید لی۔ افسانہ نگاری سے متعلق ان کے دو چار مضامین نے حوصلہ بڑھایا۔

راول پنڈی میں قیام کے دوران جن لوگوں سے میں ادب لکھنا پڑھنا سیکھ رہا تھا ان میں جناب یوسف حسن  تھے جو ایک کالج میں اردو ادب کے استاد تھے۔ وہ مجھے پنجابی میں شاعری کرنے پر اکساتے تھے۔ میں نے پنجابی میں بھی ایک دو نظمیں لکھیں۔ یوسف حسن خود اردو اور پنجابی کے صفِ اول کے شاعر تھے۔ انہوں نے مجھے مارکسی اور ترقی پسند نان فکشن پڑھوایا۔ وہ یوسف چوہدری تھے جن کی شہر کے بیچوں بیچ  ایک مصروف چوراہے پر موٹر سائیکل کے اسپیئر پارٹس کی دوکان تھی۔ وہ اس دوکان پر بیٹھ نہ صرف افسانہ لکھتے تھے بلکہ میرے افسانوں کی اصلاح بھی کرتے تھے۔ میرے اولین افسانوں کی نوک پلک انہوں نے سنواری۔ وہ خود ایک مشاق افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں کی صرف دو کتابیں شایع ہوسکیں۔ ایک “تیسری دنیا کے چاند” اور دوسری “پنجرے اور پرندے”۔

میرا پہلا افسانہ “کفارہ” جو سرکاری ادبی مجلے “ماہِ نو” میں شائع ہوا، اس افسانے کی ایڈیٹنگ یوسف چوہدری نے کی۔ میں نے فائنل کیا تو انہوں نے اسے رشید امجد صاحب کو دکھانے کے لیے کہا جو اردو کے بہت سینیئر افسانہ نگار اور ادب کے استاد تھے۔ رشید امجد صاحب نے افسانے میں چار پانچ مقامات پر لفظ تبدیل کیے اور مجھے افسانے کو کسی رسالے کو بھیجنے کا کہا۔ وہ افسانہ جب شائع ہوا تو یوسف حسن صاحب نے مجھے وہ شمارہ عنایت کیا۔میں اسے بغل میں دبائے یوسف چوہدری کی دوکان پر پہنچا ۔ ہم نے چائے پی اس کی اشاعت کا جشن منایا۔

3. Rafaqat Hayat - Rolaak
رولاک ۔ رفاقت حیات

حماد رند: ہم اکثر کامیابیوں پر بات کرتے ہیں، مگر ہر کامیاب قدم کے پیچھے کئی ٹھوکریں اور مشکلات بھی پوشیدہ ہوتی ہیں۔ کیا آپ کو بھی اپنے ادبی سفر میں، خصوصاً ابتدا کے زمانے میں، مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

رفاقت حیات: اس زمانے میں راول پنڈی میں دو ادبی حلقے تھے۔ حلقہ اربابِ ذوق اور حلقہ اربابِ غالب۔ان دونوں جگہوں پر شعری اور نثری تخلیقات تنقید کے لیے پیش کی جاتی تھیں۔میں نے اپنے پہلے دو افسانے یہاں پڑھے تو ان کے بارے میں مجموعی طور پر جو رائے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ یہ افسانے نہیں، مضامین ہیں۔ جب میں نے تیسرا افسانہ پیش کیا تو کہا گیا کہ اسے سن کر لگتا ہے کہ یہ نوجوان آگے چل کر کچھ بہتر لکھے گا۔

         ابتدا میں چند بڑے رسالے میرے افسانے شائع نہیں کرتے تھے۔ میں نے سینیئر براڈ کاسٹر، عمدہ شاعر، نقاد اور مدیر جناب قمر جمیل صاحب کے سامنے یہ مسئلہ بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کا نام رفاقت علی سراسر غیر ادبی نام ہے۔ اسے تبدیل کریں اور اپنے اس  نام کے ساتھ لیٹر ہیڈ چھپوائیں اور اگر کسی مدیر کو خط لکھیں تو اس پر لکھیں۔ میں نے ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اپنا نام رفاقت حیات کرلیا کیوں کہ میرے والد صاحب کا نام خضر حیات تھا۔ میں نے اپنے نام کے لیٹر ہیڈ چھپوا کر جب اس کے اوراق پر ادبی رسائل کے مدیروں کو افسانے بھیجنے شروع کیے تو میرے افسانے تواتر سے ادبی رسائل میں شائع ہونے لگے۔ اس کے لیے قمر جمیل صاحب کا شکر گزار رہوں گا۔

یہی چھوٹی موٹی مشکلات تھیں البتہ ایک مشکل جو آج بھی درپیش ہے وہ لوگوں کے سامنے افسانہ  پڑھ کرسنانے کی ہے۔ میں اپنی زبان میں کچھ لکنت کی وجہ سے لوگوں کے سامنے بہت کم افسانےپڑھ سکا ہوں۔ درمیان میں ہانپ جاتا ہوں پھر کوئی اور دوست آکر افسانے کی قرات مکمل کردیتا ہے۔ میں یہ سمجھتا  ہوں کہ افسانہ کوئی پرفارمنگ آرٹ نہیں ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے پیش بھی کیا جائے۔ یہ تنہائی میں لکھی گئی ایسی تحریر ہے جو تنہائی میں ہی اپنے مطالعے کا تقاضہ کرتی ہے۔

میں نے سینیئر براڈ کاسٹر، عمدہ شاعر، نقاد اور مدیر جناب قمر جمیل صاحب کے سامنے یہ مسئلہ بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کا نام رفاقت علی سراسر غیر ادبی نام ہے۔

حماد رند: آپ اپنے آپ کو بنیادی طور پر افسانہ نگار سمجھتے ہیں، مگر آپ کے دونوں ناول میرواہ کی راتیں اور خصوصاً رولاک کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ آپ کے خیال میں ناول نگار اور افسانہ نگار میں بنیادی فرق کیا ہے، اور آپ ناول کے مقابلے میں افسانے کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

رفاقت حیات: میں افسانے کو ناول پر ترجیح نہیں دیتا۔ یہ دونوں اصناف اپنی اصل میں ایک ہیں  ۔دونوں کا بنیادی کام قصہ گوئی ہے۔دونوں کسی نہ کسی بیانیے پر مبنی ہوتی ہیں۔فرق صرف طوالت ، فارم اور اس کہانی کا ہے  جو لکھی جارہی ہے۔ہر کہانی کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔

         میں خود کو کلی طور پر نہ افسانہ نگار سمجھتا ہوں  اور نہ ناول نگار بلکہ میں ایک فکشن نگار ہوں۔ میں افسانہ لکھوں یا ناول وہ لازمی طور پر فکشن ہونا چاہیے۔

         یہ حقیقت ہے کہ میرے دونوں ناولوں کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے  کہ قارئین میں طویل قصہ پڑھنے کی بھوک زیادہ ہے۔ یاد رکھیں کہ مجھے ملنے یہ پذیرائی اس کے سامنے سراسر ہیچ ہے جو اردو کی خواتین  پاپولر ناول نگاروں کو  حاصل ہے۔ ان کے ناول لاکھوں میں بکتے ہیں اور ان پر معروف ٹی وی چینل اور پروڈکشن ہاؤسز ڈرامے بھی بناتے ہیں۔ وہ فکشن چوں کہ سماج کی فرسودگی، اسٹیٹس کیو اور مہا بیانیے کو چیلنج نہیں کرتا اس لیے ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے۔بہر حال مجھے جتنی بھی پذیرائی ملی  اس کے لیے اپنے پڑھنے والوں کا شکر گزار ہوں۔

حماد رند:  آپ کے افسانوں میں اکثر نچلے یا نچلے متوسط طبقے کے کردار سامنے آتے ہیں، اور اس طبقے کی نہایت مؤثر عکاسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اس کا قریبی مشاہدہ حاصل رہا ہے۔ اس کے باوجود آپ کی تحریر میں جذباتیت حاوی نہیں ہوتی۔ آپ اس توازن کو کیسے برقرار رکھتے ہیں؟

رفاقت حیات: میری زندگی اس طرح کے انسانوں کے درمیان گزری ہے۔ میرا تعلق متوسط طبقے سے ہے لیکن میرا خاندان خاصا وسیع ہے اور اس میں ہر طبقے  والے ہیں۔

میرے افسانوں میں جذباتیت اس لیے حاوی نہیں ہوتی  کیوں کہ میں نے چوبیس پچیس کی عمر میں منٹو صاحب، بیدی صاحب، غلام عباس صاحب کو پڑھ کر سیکھ لیا تھا کہ جذبایت افسانے یا فکشن کے لیے زہر ِ ہلاہل ہے سو اس سے بچنا چاہیے۔ مجھے فلوبیئر، موپاساں، چیخوف، ترگنیف، ایڈگر ایلن پو اور او ہنری کے مطالعے نے سکھایا کہ جذبات کہانی میں موجود تو رہیں لیکن وہ کہانی پر حاوی نہ ہونے پائیں،تو مطالعے اور مسلسل مشق  کی وجہ سے افسانہ یا ناول لکھتے ہوئے اپنے جذبات و احساسات و خیالات کو قابو میں رکھنا  میں سیکھتا چلا گیا۔

حماد رند: ہمارے قارئین یقیناً آپ کے لکھنے کے معمول کے بارے میں جاننا چاہیں گے۔ یہ بتائیے کہ رفاقت حیات کے لیے لکھائی کا ایک ثمربخش دن کن شرائط کا متقاضی ہوتا ہے؟

رفاقت حیات: آپ نے لکھنے کے معمول کے بارے میں پوچھا ہے تو بدقسمتی سے میں ان ادیبوں کی طرح بالکل نہیں ہوں جو ہر روز مقررہ وقت پر اپنے میز کے آگے بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ میں پروفیشنل فکشن رائٹر نہیں ہوں، مجھے روزگار کے لیے دوسرے کام کرنے پڑتے ہیں۔ میں پارٹ ٹائمر ہوں۔ اسی لیے اب تک بہت زیادہ نہیں لکھ سکا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے لکھ رہا ہوں لیکن اب تک صرف چار کتابیں چھپی ہیں۔ تیسرا ناول پچھلے دس سال سے لکھ رہا ہوں اسے جلد مکمل کروں گا لیکن جب کبھی لگاتار لکھتا ہوں تو ایک ڈیڑھ صفحے سے زیادہ نہیں لکھ پاتا، یا بہت ہوا تو دو صفحے۔ اس سے زیادہ کی ہمت نہیں ہوتی۔جیسے آپ نے پوچھا ہے،  تو اے کاش کوئی ویسا ثمر بخش دن بھی آئے زندگی میں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ افسانہ کوئی پرفارمنگ آرٹ نہیں ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے پیش بھی کیا جائے۔

حماد رند:آپ نے مختلف مواقع پر لکھا ہے کہ اردو میں تجریدی یا علامتی افسانے کے رجحان نے افسانہ نگاری کی روایت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس موقف کی کچھ وضاحت فرمائیے۔ کیا آپ کے نزدیک حقیقت نگاری ہی اچھے ادب کی بنیاد ہے؟

         رفاقت حیات: تقسیم کے بعد دونوں ملکوں میں اردو کی ادبی دنیا میں ایک نئی پود پروان چڑھنے لگی۔ اس پود کے نمائندہ لکھنے والوں نے پہلے حقیقت نگاری  میں زور لگایا لیکن جب بات نہ بن سکی تو انہوں نے شاعری میں نئے لسانی تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو افسانے میں جدیدیت کی تحریک شروع کردی۔ جس کی نمائندگی اس دور کے بڑے افسانہ نگاروں نے کی۔

         میرا نکتہ نظر یہ ہے کہ اردو افسانے اور ناول میں علامتی اور تجریدی تجربہ کسی داخلی مجبوری کی بنا پر نہیں  بلکہ خارجی ضرورت کے تحت لکھا گیا۔ خارجی ضرورت یہی تھی کہ حقیقت نگاروں سے خود کو الگ کرکے اپنی پہچان بنائی جائے جو بن بھی گئی۔ علامت نگاروں نے شروع میں بہت پروپیگنڈہ کیا۔بہت شور مچایا۔ حقیقت نگاری کو بہ یک جنبشِ قلم مستردکردیا۔بے چاری مطلق حقیقت نگاری ابھی اردو میں شروع ہی ہوئی تھی کہ اس کا سر قلم کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی کہانی کا بھی۔

     ک ۱۹۸۰  کے بعد اردو افسانے میں جو نسل روان  چڑھی اس نے ماضی کی غلطیاں دہرانے سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے کہانی پن سے گہرا تعلق قائم کرتے ہوئے لکھنا شروع کیا اور ان میں چند نام بہت غیر معمولی نوعیت کے ہیں۔ لیکن اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی مابعد جدیدیت کا رجحان سامنے آگیا اور بعض لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بے سروپا قسم کا فکشن لکھنا شروع کردیا۔ اس رو میں بھی کچھ لکھنے والے بہت اچھے اور ایک دوسرے سے یکسر مختلف قسم کے ہیں۔ میرے نقصان پہنچانے والے موقف کا سارا پس منظر یہی ہے۔

         اب آتے ہیں آپ کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف، حقیقت نگاری کسی طور اچھے ادب کی بنیاد یا کوئی فارمولا نہیں بن سکتی اور نہ ہی کوئی بھی دوسرا رجحان یا طریقہ ایسا کرسکتا ہے۔ اچھے ادب کی بنیاد بہترین اور عمدہ قسم کی کہانی یا قصہ ہی ہوسکتی ہے۔چاہے وہ حقیقت نگاری میں ہو، سریئل ہو، علامتی ہو یا تجریدی ہو، یاجادوئی حقیقت نگاری میں ہو۔

3. Rafaqat Hayat photo
رفاقت حیات

حماد رند: آپ کے خیال میں آج کے اردو افسانے یا مجموعی طور پر اردو ادب کو کن بڑے فنی یا فکری چلینجز کا سامنا ہے؟

رفاقت حیات: جب میں آج کے اردو افسانے یا ناول کو دیکھتا ہوں تو وہ مجھے بہت توانا اور مضبوط ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔  یہ میری خوش فہمی بھی ہوسکتی ہے لیکن کچھ چیدہ چیدہ لکھنے والے ہیں جو شان دار کام کررہے ہیں۔ ظاہر ہے اچھا لکھنے والوں کی تعداد ہمیشہ کم ہوتی ہے۔ سو اردو میں بھی ایسا ہے۔

لیکن ایک بری بات یہ ہے کہ آج کے لکھنے والوں کی اکثریت کسی عجلت میں دکھائی دیتی ہے۔ انہیں کتاب لکھنے، چھپوانے اور شہرت پانے کی بہت جلدی ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہی عجلت پسندی ہے۔ اس کے بجائے انہیں صبر اور محنت کے راستے کا انتخاب کرنا چاہیے جو اب بالکل مفقود ہوتا جارہا ہے۔

حمادرند: کیا آپ کو پاکستانی ادیبوں کے انگریزی میں لکھے گئے ادب کو پڑھنے کا موقع ملا ہے؟ اس کے بارے میں آپ کی مجموعی رائے کیاہے؟ بطور ایک اردو ادیب ،آپ پاکستان کے انگریزی اور اردو دب کا تقابلی جائزہ کیسے لیتے ہیں؟  

رفاقت حیات: میں  نے بپسی سدوا، محمد حنیف، محسن حامد، ایچ ایم نقوی، کاملہ شمسی اور کچھ دوسروں کے ناول پڑھے ہیں اور وہ مجھے بہت پسند ہیں۔ وہ ہمارے بھائی بند ہیں۔ ان کے بعض ناول پڑھ کر محسوس ہوا کہ ان کا پاکستانی سماج کا مطالعہ خام ہے۔ وہ ہر چیز کو ایک بہت بڑے فاصلے سے دیکھتے ہیں۔ ان کا تجربہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے بہت اچھا ہے لیکن پاکستانی انگلش ناول پاکستان میں لکھے گئے اردو فکشن سے کوسوں دور ہے کیوں کہ اس میں خاصا تنوع آچکا ہے پھر اس کی عمر بھی زیادہ ہے۔

لیکن ایک بری بات یہ ہے کہ آج کے لکھنے والوں کی اکثریت کسی عجلت میں دکھائی دیتی ہے۔ انہیں کتاب لکھنے، چھپوانے اور شہرت پانے کی بہت جلدی ہے۔

حماد رند: کچھ ادیبوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں اردو ادب کی وافر تخلیق کے باوجود ادبی تہواروں اور انعامات میں انگریزی ادب کو ترجیحی مقام دیا جاتا ہے۔ کیا آپ اس نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہیں؟ اگر ہاں یا نہیں، تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟

رفاقت حیات: ایک یا دو ایسے ادبی میلے ہیں جہاں انگریزی اور دیگر غیر ملکی ادب کو ترجیحی مقام دیا جاتا ہے ورنہ مجموعی طور پر یہ تاثر  درست نہیں ہے۔ زیادہ تر ادبی میلوں  اور انعامات میں اردو اور علاقائی زبانوں  کے لکھنے والوں کی ہی اکثریت ہوتی ہے۔زیادہ تر ادبی کانفرنسیں، سیمینار، ادبی میلے اور ایوارڈز اردو اور علاقائی زبانوں کےادب کے گرد ہی گھومتے ہیں۔

حماد رند: کیا ابھی کوئی ایسا موضوع یا تجربہ ہے جس پر آپ لکھنا چاہتے ہیں مگر ابھی تک موقع  میسر نہیں آیا؟

رفاقت حیات: جی ہاں، کچھ ایسے تجربات ہیں جو خاصے ہمہ گیر ہیں اور میں ایک عرصے سے ان پر لکھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ جلد انہیں لکھنے کی کوشش کروں گا۔تیسرے ناول کے بعد ہی اس طرف رجوع کروں گا۔دیکھیے کتناوقت لگتا ہے۔

Hammad Rind is a Pakistani-born writer and translator now based in Cardiff. His debut novel in English, Four Dervishes (Seren Books, 2021), was long-listed for the British Science Fiction Association Award. He works across a number of languages, including Welsh, Persian, Urdu, and Turkish. His translation work includes rendering Naveen Kishore’s Knotted Grief into Urdu as Uljha Gham (Zuka Books, 2022), as well as co-translating poetry by Palestinian poet Najwan Darwish into Welsh. He is currently doing a PhD in Welsh at Bangor University, researching the elegiac traditions of Welsh marwnad and Persian/Urdu marsiya.

Scroll to Top