میں دبئی سے پاکستان سالانہ چھٹی پر گیا ہوا تھا۔ غالباً نومبر کا مہینہ تھا، گرمی کا زور تھم چکا تھا اور جاڑے کی ہلکی ہلکی آمد محسوس ہورہی تھی۔ اچانک ایک شام دِل نے خواہش کی کہ مونگ پھلی کھاؤں، وہی دیسی مونگ پھلی جو پاکستان کی مٹی میں پلتی ہے اور اپنا منفرد ذائقہ پاتی ہے۔ پردیس میں مونگ پھلی تو مل جاتی ہے مگر پیکٹ میں بند، نمک سے بوجھل اور ذائقے سے خالی ہوتی ہے۔ بلڈ پریشر کی وجہ سے ویسے بھی میں نمک سے پرہیز کرتا تھا۔

         میں چھت سے اُترا اور مین گیٹ کھول کر باہر جانے ہی والا تھا کہ بڑی بیٹی نے پیچھے سے آواز دی۔

“بابا جان کہاں جا رہے ہیں؟”

“بیٹی مونگ پھلی لینے جا رہا ہوں۔”

         “ہمارے لیئے بھی لیتے آئیے گا۔

        “ٹھیک ہے میری جان۔ دروازہ بند کرلو۔”

کانوں میں وائرلیس ائیربڈز لگائے، موبائل پر فیض احمد فیض کی غزل ’’بہار آئی‘‘ ٹینا ثانی کی آواز میں چلائی۔ میں چلتا جا رہا تھا۔ اپنے دیس کی شام میں ایسی مسحور کن جاذبیت تھی کہ یادوں کا ایک سلسلہ عدم سے نکل کر میرے دِل میں پڑاؤ ڈالے جا رہا تھا۔

بازار پہنچ کر میں نے ایک دو دکانوں پر مونگ پھلی کا بھاؤ پوچھا، چکھ کر بھی دیکھی مگر ذائقے میں وہ تازہ نہ تھی، باسی پن زبان پر فوراً اُتر آیا۔

تب میں نے اِدھر اُدھر کسی ریڑھی والے کی تلاش شروع کردی۔ عموماً ریڑھی والے اپنی مونگ پھلی کا انبار بکھیر دیتے ہیں اور اس کے اوپر مٹی کی ہانڈی رکھ دیتے ہیں جس میں لکڑیاں جل رہی ہوتی ہیں۔ لکڑیوں کے جلنے سے ہانڈی میں جو تپش پیدا ہوتی ہے وہ مونگ پھلی کو اور زیادہ خوش ذائقہ بنا دیتی ہے۔ میں اکثر ہانڈی کے بالکل نیچے سے ہی مونگ پھلی خریدا کرتا تھا۔

پورے بازار میں مجھے پکوڑوں والے، مکئی کے بھنے ہوئے دانوں والے، دہی بھلے فروخت کرنے والوں کی ریڑھیاں تو نظر آئیں مگر مونگ پھلی والی ریڑھی دکھائی نہ دی۔ میں نے ایک دو آدمیوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک بوڑھا بابا آتا ہے، وہ اس گلی کے اندر کھڑا ہوجاتا ہے مگر اس وقت تک تو وہ نہیں آیا تھا۔

وہی گلی جو واپسی پر میرے گھر کی طرف جاتی تھی، میں کچھ دیر ٹہلتا رہا، پھر جب اس گلی میں داخل ہوا تو اندھیرا پھیل چکا تھا۔ ٹھنڈ کا احساس بھی اب واضح ہونے لگا تھا کیونکہ مرگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والی ہوائیں شام کے وقت راولپنڈی کے موسم میں خنکی گھول دیتی ہیں اور ویسے بھی یہ نومبر کی آخری تاریخیں تھیں۔ میں نے پشمینہ کی شال کو کس لیا جو ذرا ڈھیلی ہوچلی تھی۔ تھوڑا آگے بڑھا تو واقعی ایک ریڑھی نظر آئی۔ ذرا فاصلے سے ہی معلوم ہوگیا کہ اس پر ایک مٹی کی ہانڈی میں آگ جل رہی تھی اور اسکے گرد دودھیا روشنی کا ہلکا سا دائرہ بن رہا تھا۔

میرے قدموں کی رفتار خود بخود تیز ہوگئی۔

جیسے ہی میں اس کی ریڑھی کے پاس پہنچا، پلاسٹک کے ایک تھیلے میں اخروٹ، دوسرے میں ریوڑیاں، تیسرے میں بھنے ہوئے کالے چنے اور چوتھے میں پتاشے رکھے ہوئے تھے۔ اندھیرے کی وجہ سے تین چار اور پلاسٹک کے تھیلوں میں کیا تھا، میں دیکھ نہ سکا۔ ان کے درمیان مونگ پھلی کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔ مونگ پھلی کے اوپر ہانڈی میں جلتی لکڑی سے اٹھتا ہوا دھواں پیچھے گلی میں کسی گھر کے جلتے بلب کی روشنی میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔

دھوئیں کا ایک جھونکا میرے نتھنوں سے گزرا تو مجھے احساس ہوا کہ ہاں، یہی وہ مونگ پھلی ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔ میں نے بغیر پوچھے دو تین دانے اٹھا کر منہ میں ڈالے تو مزہ آ گیا۔

ہانڈی میں جلتی آگ کی روشنی میں میں اس شخص کو صاف دیکھ رہا تھا۔ وہ نہایت ضعیف اور نحیف انسان تھا۔ لمبی داڑھی، قمیض کے بٹن جتنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور سانولا رنگ۔ شاید اس کی داڑھی اور سر میں کوئی ایک آدھ بال ہی ایسا بچا ہو جو سیاہ ہو۔ وہ دوبارہ نیچے زمین سے کچھ اٹھا کر ریڑھی کے اوپر رکھ رہا تھا، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میرے اندازے کے مطابق اس وقت اس کی عمر پچھتر سے اسی برس کے درمیان ہوگی۔

میں ایک دفعہ کھانسا تو اس نے اپنی ناک پر ٹکی ہوئی موٹے شیشوں والی عینک کے پیچھے سے مجھے کنکھیوں سے دیکھا۔ میں نے پوچھا ۔

مونگ پھلی کا کیا بھاؤ ہے؟

 “اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ ” چار سو روپے کلو۔

اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش اور تھکن شامل تھی۔ اسی لمحے میری نظر پڑی تو وہ نیچے سے ملٹائی رنگ کی سویاں آہستہ آہستہ اٹھا کر ریڑھی کے اوپر سجا رہا تھا۔ دوبارہ میری نظر اس کی نظر سے ملی تو مجھے اس کے چہرے پر ایک مانوس سی شناخت محسوس ہوئی، جیسے میں نے اسے کہیں نہ کہیں دیکھا ہو۔ میں اسے غور سے دیکھنے لگا۔

اس نے پلاسٹک کا ایک اور شاپر اٹھاتے ہوئے کہا ۔

                                  “کتنی تول دوں، بتاؤ؟”

یہ کہہ کر اس نے ترازو درست کر لیا۔

   “ایک کلو تول دیں۔”

اسی دوران پیچھے سے ایک تیز رفتار موٹر سائیکل گزری۔ شاید اسی لیے اس شخص تک میری آواز نہ پہنچ سکی۔ اس نے دوبارہ پوچھا ۔

“بتاؤ، کتنی تول دوں؟َ

“میں نے پھر اپنا جملہ دہرایا ۔ “ایک کلو تول دیں۔ا

وہ کانپتے ہاتھوں سے مٹھی بھر کر مونگ پھلی شاپر میں ڈالنے لگا۔ میں اپنی یادداشت پر زور دے رہا تھا کہ میں نے اس شخص کو پہلے کہاں دیکھا ہے، مگر کچھ یاد نہ آ سکا۔

میری یاداشت خالی تھی اور میں الجھن میں پڑ گیا۔ میں نے اس شخص سے کہا۔

“مجھے لگتا ہے بڑے میاں میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے۔”

یہ سن کر اسکے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اُبھری اُس نے کہا۔

ا“ہوسکتا ہے میں تو ساری زندگی ریڑھی لگاتا رہا ہوں تم نے پہلے بھی مجھ سے کچھ خریدا ہوگا۔”

یہ کہہ کر اس نے مونگ پھلی کا شاپر میرے ہاتھ میں تھمایا۔ میں نے اُسے پیسے دیئے۔ پھر وہ دوبارہ اپنے سودے کو ریڑھی پر سجانے لگا۔ میں گھر آیا جہاں مرغ بریانی میرا انتظار کر رہی تھی۔ ہم نے بریانی کھائی اور پھر چھت پر چلے گئے۔ گھر والوں کے ساتھ مل کر وہ مونگ پھلی کھائی مگر میرا ذہن ابھی بھی اُس بوڑھے کے چہرے پر ٹکا ہوا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ہے۔ مگر میرا ذہن ایک صحرا بنا ہوا تھا جہاں ریت پر یاداشت کے دھندلے نقش ہوا کبھی ادھر اُڑا کے لے جاتی تو کبھی اُدھر۔ رات ہوئی تو بستر پر کروٹیں بدلنے لگا، نیند مجھ سے کوسوں دور بھاگ گئی۔ میں اُٹھا کچن میں گیا، پانی کا گلاس بھر کر پیا۔ جیسے ہی دوبارہ بستر پر لیٹا ایک لمحے میں میرا ذہن میں کوئی پینتیس برس پیچھے کی تصویر آگئی۔

ہاں جب ہم کم سن تھے اور ہمارے دادا جان ہمیں اسکول چھوڑنے جاتے تھے تو اس وقت ہمارے اسکول ایف۔ جی بوائز سیکنڈری سکول میں نائب قاصد اسحاق ہوتا تھا جو ہمیں اسکول کے اندر لے جاتا تھا اور چھٹی کے وقت وہ سکول کے صدر دروازے کے سامنے ریڑھی لگایا کرتا تھا۔

ہو نہ ہو یہ نائب قاصد اسحاق ہی ہے۔

میری یاداشت کا ورق کھلا تو پرانے واقعات میرے ذہن میں تیزی سے گردش کرنے لگے، بالکل ویسے ہی جیسے باغ کا دروازہ کھلنے پر چھوٹے بچے اندر آکر کھیلنے لگتے ہیں۔

مجھے ٹھیک طرح سے یاد آگیا کہ وہ ہمارے دادا جان کو بتایا کرتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا کر بڑا افسر بنائے گا، کیونکہ اسکا ایک ہی بیٹا تھا جسکے لیئے وہ ریڑھی بھی لگاتا تھا اور سرکاری نوکری بھی کرتا تھا۔

غالباً اسکے بیٹے کا نام ثاقب تھا جو ہماری کلاس میں پڑھتا تھا۔ وہ بہت لاڈ پیار سے پالا ہوا تھا، دِن کو آدھی چھٹی ہوتی تو باپ باقاعدگی سے کھانے پینے کی کوئی چیز اسے تھما جاتا تھا۔

ثاقب کا اوپر والا ہونٹ پیدائشی طور پر کٹا ہوا تھا جسکی وجہ سے لڑکے اسے چڑھاتے  تھے۔

ایک بار کسی لڑکے نے ثاقب کو زیادہ ہی تنگ کردیا۔

ا“ٹماٹر کی طرح کٹے ہوئے ہونٹ، ٹماٹر کی طرح کٹے ہوئے ہونٹ۔”ا

تو اسحاق اس لڑکے کو لے کر پرنسپل کے آفس میں گیا، اسکی شکایت کی، اس کے بعد اس لڑکے کے والد کو بلا کر اُسے دس دن کے لیے گھر بیٹھا دیا گیا۔ مگر پھر دوبارہ کسی کی جرات نہ ہوئی کہ ثاقب کے کٹے ہونٹ کا ذکر بھی کرے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ اسحاق دادا جان کو بتا رہا تھا ۔  

ا“شاہ صاحب میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا ڈاکٹر بن جائےاور اگر ڈاکٹرنہ بن سکے، تو کوئی  بڑا سرکاری افسر ضرور بنے‘‘ اور جب ہم ثاقب سے پوچھتے تھے کہ تم بڑے ہوکر کیا بنوگے تو ثاقب ہمیں کہتا تھا ۔

“میں افسروں کے افسروں کے افسروں کا بھی افسر بنوں گا۔”

دادا جان ہمیں پیدل ہی گھر لے کر جایا کرتے تھے، اسکول سے ہمارا گھر کوئی تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

ایک مرتبہ ہوا یوں کہ جیسے ہی چھٹی ہوئی  اچانک بارش شروع ہوگئی۔ شام کا وقت تھا۔

اسحاق ہمیں لے کر اسٹاف روم کے ساتھ ایک کمرے میں چلا گیا۔ اس نے دادا جان سے کہا ۔

“شاہ صاحب بارش تھمنے تک یہاں بیٹھ جائیں، بچے ہیں، بھیگ گئے تو بیمار ہو جائیں گے۔”

جاڑے کے دن تھے۔ اس نے دادا جان کو چارپائی پر بٹھایا اور اس کے پاؤں کی سمت رضائی پڑی ہوئی تھی، یہ وہی کمرہ تھا جہاں چپڑاسی، نائب قاصد اور مالی بیٹھتے اور چائے وائے پیتے اور رات کو چوکیدار اس میں آجاتا۔

مجھے یاد ہے وہ اکثر تعلیم کی اہمیت پر باتیں کرتا تھا۔ دادا جان اَن پڑھ تھے، انہوں نے ساری زندگی ٹرک ڈرائیوری کی تھی اس لیئے وہ اسحاق کی باتیں بڑے غور سے سنتے جیسے وہ کوئی مفکر ہو۔

اس دن وہ کہہ رہا تھا ۔ ’’شاہ صاحب اگر آج ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے تو کل یہی بچے ملک کا نام روشن کریں گے۔ بڑی پوسٹوں کے لیے منتخب کیئے جائیں گے، بڑے عہدے پر جانا تعلیم کے بغیر ممکن نہیں بچے پڑھیں گے تو ہی آگے بڑھیں گے۔”

“شاہ صاحب، میرے بھائیوں کو ذرا دیکھیں ان میں اتنی سمجھ نہیں کہ انہوں نے پانچویں جماعت کے بعد اپنے بیٹوں کو اسکول سے اُٹھا لیا اور کام پر لگادیا۔ کہتے ہیں کوئی ہنر سیکھ لیں گے تو ہی پیسہ کمائیں گے۔”

“کتنے نادان ہیں انہیں معلوم ہی نہیں کہ آنے والا زمانہ علم کا ہے صرف پڑھے لکھے لوگ ہی دولت کمائیں گے اور وہی معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔”

اسکی یہ باتیں مجھے یاد ہیں، وہ تعلیم کو غیر معمولی اہمیت دیتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پرنسپل اور ٹیچرز کے قریب رہتا تھا۔

کبھی اساتذہ اسے کینٹین سے چائے لانے کے لیے بھیج دیتے، کبھی اپنے کسی مہمان کے لیے اس کے ہاتھ کھانا منگوالیتے، اور کبھی یوں ہوتا کہ دوسرے اسکولوں کے اساتذہ آتے، چائے کا دور چلتا اور وہ چائے پلاتے پلاتے خاموشی سے ان کے درمیان جا بیٹھتا، ان کی گفتگو اسکے کانوں کے راستےسے اسکے ذہن میں اُتر جاتی۔ مگر اسکے نزدیک تعلیم انسانی شعوری تربیت کے لیئے نہیں، بلکہ پیسہ کمانے کا ذریعہ مقام و مرتبہ پانے کا وسیلہ تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا دے گا تو وہ کسی بڑے مقام پر فائز ہوجائے گا۔ چونکہ وہ خود غریب تھا اس لیئے اس کی سوچ بھی اس محرومی سے جنم لیتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی سرکاری نوکری کے بعد، اسکول سے فارغ ہوکر ریڑھی بھی لگاتا تھا تاکہ وہ اپنے بیٹے کو ہر آسائش دے سکے۔

مجھے یاد ہے ثاقب کے پاس اُس وقت بھی دیدہ زیب  شاپنر، خوشبودار پنسلیں، عمدہ کاپیاں پھر بہترین قلم ار مہنگا بستہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے جوتے بھی باٹا کے ہوتے تھے جو اس زمانے میں خاصے مہنگے سمجھتے جاتے تھے۔ 

اسکول میں جو سرکاری فنکشن ہوتے تھے، ان میں بھی وہ اپنے بیٹے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور بچا کر رکھتا تھا۔ مثلاً کبھی برگر، کبھی کوکا کولا، کبھی پلاؤ تو کبھی چپس۔

پھر نیند کے سائے نے میری یاداشت کو ماندہ کردیا اور سونے سے پہلے یہ سوال میرے ذہن کی سطح پر اُبھرا ۔

“کیا اسحاق لاشعوری طور پر اپنے بیٹے کو اپنی ادھوری خواہشات کا مداوا سمجھ رہا تھا؟”

صبح تقریباً نو بجے آنکھ کھلی۔ چونکہ پاکستان میں چھٹیوں پر تھا اس لیے میں بے فکری سے اُٹھتا تھا۔ بیگم نے نہاری بنائی ہوئی تھی اور بڑے بھائی تندور سے گرما گرم روغنی نان لے آئے۔ میں نے ناشتا کیا اور چائے لےکر چھت پر چلا گیا اور دھوپ سینکنے لگا۔

         میرا ذہن سکول کی بھولی بسری دنیا میں کھویا ہوا تھا۔ رات کو خواب میں بھی خود کو اسکول کے گراونڈ میں کھیلتے ہوئے پایا۔

         اب مجھے اس بات کا انتظار تھا کہ کسی طرح شام ہوجائے اور میں نائب قاصد اسحاق سے مل سکوں۔ میرے اندر اس سے سوال کرنے کا ایک گہرا، بے نام سا تجسس جنم لے چکا تھا، جو مجھے چین لینے نہیں دے رہا تھا۔  

         مجھے ہلکا ساخدشہ تھا کہ کہیں محض میرا وہم نہ ہو وہ کوئی اور بھی ہوسکتا تھا۔ 

بڑھاپے میں چہروں کے خدوخال ڈھلک جاتے ہیں میں نے بہت سے بوڑھوں کو ایک جیسا دیکھا ہے۔

پھر بھی میرے اندر امید باقی تھی کہ ہو نہ ہو، یہ وہی نائب قاصد ہے۔

میرے جذبات بکھرے ہوئے تھے۔ اسکے ساتھ اسکول کی ساری یادیں آہستہ آہستہ میرے اندر لوٹ آئیں۔ سارا دن چھت پر بیٹھا میں یہی محسوس کرتا رہا کہ جیسے میرا بچپن لوٹ آیا ہے اور اسکول کے دن میرے اردگرد پھیل گئے ہیں۔

         انسان کے ماضی میں تلخ یادیں اور بُرے تجربے بھی ہوتے ہیں، مگر اسکے باوجود ہر انسان ماضی کو حال سے بہتر سمجھتا ہے اور بچپن تو کسی بھی انسان کی زندگی کا روشن ترین حصہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے کہ وہ اس وقت ذمہ داری سے آزاد ہوتا ہے۔

ذمہ داریوں سے زندگی کے رنگ مدھم پڑھنے لگتے ہیں سچ تو یہ ہےبچپن کی یادیں مجھے سکون دے رہیں تھیں۔ میرا دل بچپن کی طرف پلٹ جانا چاہتا تھا۔ پردیس میں اپنوں سے دور زندگی گزارنا آسان نہیں تھا مگر اب ایسا ممکن نہیں تھا، اگر کوئی انسان اپنی یادوں سے بھی محروم ہوجائے تو پھر اسکے پاس تلخ لمحوں سے نمٹنے کا کوئی سہارا باقی نہیں رہتا۔

دِن کو بیگم نے بھی محسوس کرلیا تھا کہ آج میں اسے وقت نہیں دے رہا تھا۔ شام کو وہ چائے بنا کر چھت پر لائی تو آہستگی سے مجھ سے پوچھا ’’کیا بات ہے، آج آپ سب سے الگ تھلگ کیوں ہیں؟”؟

میں نے اسے بتایا کہ آج میں اپنے بچپن کی یادوں میں کھویا ہوا ہوں۔

اللہ اللہ کر کے شام ہوئی تو میں بازار کی طرف چل پڑا۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔ میں نے دیکھا اسحاق ٹھیک اسی جگہ آچکا تھا جہاں کل میں نے اس سے مونگ پھلی خریدی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی جیسے وہ سمجھ گیا کہ آج میں پھر مونگ پھلی لینے کے لیے آیا ہوں۔ اس کی مسکراہٹ ایک عام گاہک کے لئے خوش آمدید جیسی تھی جیسا کہ دکاندار اکثر اپنے چہروں پر لاتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا ۔

 “ایک کلو مونگ پھلی تول دیں۔”

وہ شاپنگ بیگ اُٹھا کر ترازوں کے اوپر پڑی اسٹیل کی کڑاہی پر مونگ پھلی تولنے لگا۔

اچانک میں نے سوال کیا “کیا آپ وہی اسحاق ہیں جو ایف جی بوائز سیکنڈری اسکول میں نائب قاصد تھے؟”

وہ مونگ پھلی رکھ کر اچانک مجھے دیکھنے لگا جیسے میرے چہرے پر کچھ تلاش کر رہا ہو۔ پھر کہا ۔

“ہاں مگر تم مجھے کیسے جانتے ہوں؟”

“میں بچپن میں اِسی اسکول میں پڑھتا تھا، روزانہ  آپ کو دیکھتا تھا، آپ ثاقب کے والد ہیں نا؟”

اسکے چہرے پر حیرت اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات تھے۔

“ہاں بالکل ثاقب میرا ہی بیٹا ہے۔”

میں نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی ۔ “آپ کو یاد ہے؟ میرے دادا جان شاہ صاحب جو اکثر آپ سے گپ شپ کیا کرتے تھے۔”

پہلے تو وہ گہری سوچ میں پڑگیا، شاید اپنی یادوں کو کھنگال رہا تھا کہ کونسے شاہ صاحب۔

مونگ پھلی کڑاہی سے شاپر میں ڈالے جانے کے انتظار میں تھی۔ کچھ لمحے گزرے تو میں نے بھی امید چھوڑ دی، سوچا شاید وقت نے اسکے دماغ سے کچھ یادیں مٹا دی ہوں۔

مگر پھر وہ اچانک بولا “ہاں وہ دراز قد والے شاہ صاحب جو اسکول دو بچوں کو چھوڑنے اور لینے آتے تھے، ان کے سر پر ٹوپی ہوتی تھی۔”

 میں چونک گیا، اس کو نہ صرف میں بلکہ میرا چچازاد بھی یاد آگیا۔

سوال ذرا ناگوار تھا مگر میرے ذہن میں اُبھرا تو میں نے پوچھ لیا۔

ا“ثاقب کیا کرتا ہے؟ آپ اسے بڑا افسر بنانا چاہتے تھے؟”؟

اس نے گہری سانس لی اور بولا “اسکول سے کالج تک تو سب ٹھیک رہا۔ جب وہ یونیورسٹی پہنچا تو ہمارے پاس اتنی ہمت نہیں تھی کہ اسے مہنگی تعلیم دلوا سکیں۔ میں سمجھتا تھا کہ اس ملک میں تعلیم ایک ہی معیار کی ہے مگر یہاں تعلیم بھی مہنگی اور سستی ہے، بڑی یونیورسٹیوں کے مہنگے کورس کی بھاری فیس تو میرے بس کی نہ تھیں۔ مہنگائی اب تک لگاتار بڑھے جارہی ہے اور گریجویٹی سے جو پیسہ ملا وہ ثاقب کی ماں کے علاج پر خرچ ہوگیا، مگر وہ پھر بھی اللہ کو پیاری ہوگئی۔ اس لیے ثاقب نے ایک سرکاری یونیورسٹی سے پڑھائی مکمل کی، اسکے بعد اسے بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا کبھی ایک سرکاری ادارے میں درخواست تو کبھی دوسرے میں انٹرویو۔ مگر کہیں کام نہ بن سکا، بنتا بھی کیسے، نہ تو ہمارے پاس سفارش تھی اور نہ رشوت۔ ویسے آجکل نوٹ زیادہ کار آمد ہیں۔”

         وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر کہنے لگا “پہلے تو پرائیویٹ نوکری کرتا رہا مگر شادی کے بعد جب ثاقب کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا تو اخراجات بڑھ گئے تواس نے بھی ریڑھی لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ آشیانہ چوک پر آلو کے چپس اور پکوڑے بیچتا ہے۔”

میں ابھی کچھ پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ خود ہی بول پڑا ۔

ا“اب میں سمجھتا ہوں کہ پڑھائی سے زیادہ ہنر سیکھ لیں بچے کے لیے بہتر ہے۔ میرے بھتیجوں کو ہی دیکھ لو، ان کی اپنی دکانیں ہیں اور پانچ پانچ لڑکے ان کے آگے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھر بنالئے ہیں۔ اچھا کھاتے پیتے ہیں۔ ہم آج بھی کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں۔ اگر میں   بھی اس عمر میں ریڑھی نہ لگاؤں تو ثاقب ایک ریڑھی سے گھر کیسے چلائے؟ کرایہ دینا تو الگ بات، بجلی کے بل اتنے زیادہ آتے ہیں کہ میں پریشان ہوجاتا ہوں۔ کتنی بار مجھے بخار ہوا مگر میں ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا کیونکہ ڈر تھا کہیں کوئی نیا سیاپا ہی نہ پڑجائے۔”۔

اسکی باتیں سن کر میرے ذہن میں وہ تمام درخواستیں اُبھریں جو میں نے سرکاری دفاتر میں نوکری کے لیئے جمع کرائی تھیں۔ آخر میں بھی تو اس ملک میں پڑھ کر دوسرے ملک جاکر کام کرنے پر مجبور تھا۔

میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ جیسے اس نے میری سوچ پڑھ لی۔

“تم کیا کر رہےہو؟” اسکی آواز ذرا چونکا دینے والی تھی۔

ا“میں دبئی میں کام کر رہا ہوں۔”

اس نے ہنستے ہوئے کہا “کیوں پاکستان میں کام نہیں ملا؟ ممکن ہے تم بھی مہنگی تعلیم حاصل نہیں کرپائے، اِسی لیئے پردیس میں ہو۔ ورنہ کون اپنا گھر چھوڑ کر دیار غیر جاتا ہے؟”

پھراس نے میری نظروں سے نظریں ملا کر کہا “سب بکاؤمال ہے۔”

میں کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر الفاظ میری زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

میں نے خاموشی سے گھر کا رخ کیا۔ مونگ پھلی کا شاپر کھولے بغیر ہاتھ میں اٹھائے چلتا گیا۔ بچپن کی یادیں حال کی اصلیتوں کی سخت روشنی میں اب کھوکھلی لگ رہی تھیں۔

 

3. Syed Qamar Abbas

Syed Qamar Abbas Araji is a researcher, genealogist, and Urdu fiction writer whose work harmonizes literary imagination with a profound and reflective exploration of human experience. Through a keen observation of society, he selects themes that illuminate the hidden anxieties, contradictions, and complexities of contemporary life. His stories frequently engage with questions of identity, memory, alienation, and existence, employing symbolism and layered narratives to examine the relationship between the individual and the world around them.

Scroll to Top