دوستو، آواز کی دوسری کڑی کے ساتھ حاضر ہوں۔ آئیے سری لنکا کی ان ادبی سوغاتوں کا مزہ اپنی زبانوں میں لیتے ہیں۔ اس بار اردو اور ماجھی پنجابی کے علاوہ ایک عدد نظم شاہپوری میں بھی ترجمہ کی ہے۔ ماجھی ترجمہ رابعہ ملک کااور باقی ترجمے میرے۔
ذیل میں دیئے گئے تمام تعارف اور سنہالہ سے کئے گئے تراجم ادیب اور مترجم گیا ناگاہوتہ کے قلم سے ہیں جن کے تعاون اور تراجم کا میں بیحد ممنون ہوں۔
حماد رند –
آواز کی دوسری کڑی کے سلسلے میں سری لنکا کی دو قومی (اور سرکاری) زبانوں، سنہالہ اور تَمِل میں لکھے گئے جدید ادب سے چند نمایاں مثالیں پیش خدمت ہیں۔ بطور تعارف، سِنہالہ (جسے سنہالی بھی کہا جاتا ہے) ایک ہندآریائی زبان ہے جس کے ابتدائی نقوش تیسری صدی قبل از مسیح میں ملتے ہیں جبکہ تمل (یا تامل) کا تعلق دراوڑی زبانوں کے خاندان سے ہے اور اس کا شمار دنیا کی قدیم ترین زندہ کلاسیکی زبانوں میں ہوتا ہے۔ سنہالہ اور تمل دونوں دو لسانی سطحوں والی یعنی ڈائی گلوسک زبانیں ہیں یعنی ان کی تحریری اور بولے جانے والی صورتوں میں بہت سے امتیازی فرق ہیں۔
دونوں زبانوں کے رسم الخط قدیم برہمی خط کی ارتقایافتہ شکل ہیں۔
سنہالہ اور تمل دونوں نے برصغیر ہند میں آنکھ کھولی مگر سری لنکا کے جزیرے میں الگ تھلگ رہنے کی بدولت دونوں زبانوں میں بہت سی انفرادی خصوصیات نے جنم لیا۔ اس جزیرے کی حدود میں صدیوں کے باہمی ملن کی بدولت ایک دوسرے پر گہرا اثر چھوڑنے کے ساتھ ساتھ دونوں زبانوں نے ایک دوسرے سے کھل کر الفاظ، عبارات بلکہ قواعد بھی مستعار لئے ہیں۔
یہاں پیش کی گئی تحریریں سری لنکا میں رہنے والے چھ جدید تمل اور سنہالی ادیبوں کی ہیں۔ ہر تحریر کے ساتھ اس کے ماخذ کے متعلق بھی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ میں تمام مصنفین اور مترجمین (بالخصوص تمل کے مترجمین) کی ممنون ہوں جنہوں نے بخوشی اپنی تحریروں اور تراجم کے پاکستانی زبانوں میں ترجمے کی اجازت دی۔
ایک علاقے کے ادیبوں اور مترجمین کے درمیان باہمی تعاون ایک بہت مفید روایت ہے۔ اس سلسلے میں میں حماد رند کی مشکور ہوں جنہوں نے سری لنکا کے ادب کو ہمارے برصغیر میں زیادہ وسیع قارئین تک پہنچنے کا یہ شاندار موقع فراہم کیا۔
تحریر: گَیا ناگاہوَتّہ – ترجمہ :حماد رند –
ادیب اور شعرأ
پکیاناتھن اہیلان
پکیاناتھن اہیلان (پیدائش ۱۹۷۰) جافنا یونیورسٹی کے شعبہ فنون لطیفہ میں فنی تاریخ کے سینئر لیکچرر ہیں۔ انہوں نے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی دہلی سے پی ایچ ڈی اور مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی بروڈا سے ایم اے کیا۔ بصری فنون، تھیئٹر، ثقافتی سیاست اور اقلیتی ورثے پر تحریروں کے علاوہ ان کی شاعری کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ان کی شاعری ان کے اسلوب کی اختصار پسندی کے سبب جانی جاتی ہےجس کے ذریعے انہوں نے سری لنکا کی دہائیوں پر پھیلی خانہ جنگی کے مختلف پہلوؤں کا بخوبی احاطہ کیا ہے۔
یہاں پیش کی جانے والی نظم گیتا سکومرن کےانگریزی ترجمے پر مبنی ہے، جس کا نام ہے
Then There Were No Witnesses (2018).
ایرک الایاپارَچّھی
ایرک الایاپارچّھی (پیدائش ۱۹۵۶) کا شمار جدید سری لنکائی ادب کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے، جن کا کام فکشن، شاعری، فنی تنقید اور سماجی تبصرہ نگاری کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اور انہیں بائیس قومی ادبی انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ سری لنکا کے ایک معروف موسیقار کے ساتھ اگنی کے عنوان سے ایک اوپیرا لکھ چکے ہیں اور فرانز کافکا کے کایاکلپ (میٹامورفوسیز) کو بھی اسکرین پلے کی صورت میں ڈھال چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے رابندرناتھ ٹیگور اور سعادت حسن منٹو پر بھی لکھا ہے۔
یہاں شامل کی گئی نظم ان کی نظموں کے مجموعے وساتُرو سِری تک (وساتُرو بادشاہ کا قصہ، ۱۹۹۶) سے لی گئی ہے جس کا موضوع ہجرت کی انگیزش اور گم شدہ وطن کا ناستالجیا ہے۔
نیلانتن
نیلانتن (پیدائش ۱۹۷۰) سری لنکا کے شمال میں واقع جافنا میں رہنے والے شاعر، فنکار اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ تمِل زبان میں ان کے شاعری کے پانچ مجموعے منظرعام پر آ چکے ہیں اور برصغیر بھرمیں ان کے ہنر کے فن پاروں کی متعدد نمائشیں ہو چکی ہیں۔
نیلانتن ۲۰۰۹ کے وسط میں سری لنکا کی خانہ جنگی کے آخری ایام کے قریبی شاہد تھے۔ یہاں پیش کی جانے والی نظم سری لنکا کی تاریخ کے اس تاریک باب کی یاد دلاتی ہے جب شمالی اور مشرقی سری لنکا میں کئی دہائیوں سے جاری خانہ جنگی مُلاوائیکل کے ساحلوں پرپُرتشدد انداز میں اختتام پذیر ہوئی۔ اردو ترجمہ گیتا سکومرن اور شیش ٹریوٹ کے غیر اشاعت شدہ انگریزی ترجمے ملیوائیکل ۲۰۱۱ پر مبنی ہے۔
اے سنکاری
اے سنکاری (پیدائش ۱۹۴۷) تمل شاعر، ناقد، فیمینسٹ اور سماجی کارکن سِترالیگا موناگرو کا قلمی نام ہے۔ وہ ۱۹۷۰ سے سری لنکا میں وقوع پذیر ہونے والی فیمنسٹ تحریک کی نمایاں شخصیت رہی ہیں اور پورانی اِلّم جیسے اداروں کیلئے کام کر چکی ہیں جس کا مقصد خانہ جنگی سے متاثر ہونے والی عورتوں کی فلاح ہے۔ جنگ کے دوران انہوں نے ملک بھر کا سفر کیا اور تمل عورتوں سے مل کر ان کی کہانیاں اور صدمات قلمبند کئے۔ ۲۰۱۳ تک باٹیکالوا میں واقع مشرقی یونیورسٹی میں پروفیسر رہیں اور شاعری کے چار جدت طراز مجموعوں کی تدوین کر چکی ہیں جن میں سولاتا سیتیگل (۱۹۸۶) اور اُویر ویلی (۱۹۹۹) شامل ہیں۔
یہاں شامل کی جانے والا اردو ترجمہ سومتی سیواموہن کے انگریزی ترجمے پر مبنی ہے جوشعری مجموعے سری لنکا سے باہر (۲۰۲۳) میں شائع ہوا تھا۔
اجیت تِلاکسینہ
اجیت تلاکسینہ (پیدائش ۱۹۳۳) سنہالی کے افسانہ نگار، شاعر، اسکرپٹ نویس اور ناقد ہیں۔ وہ سولہ سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور انہیں کئی اعزازات کے ساتھ ساتھ دو قومی انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔ انہوں نے لکھنے کیلئے تحریر واشاعت کیلئے موزوں سمجھی جانے والی واحد رائج شدہ ادبی زبان سے ہٹ کر عام عوام کی زبان کا انتخاب کیا۔سنہالہ کے رسم الخط کی پیچیدگیوں کو چھپائی اور اشاعت کیلئے موزوں بنانے کیلئے انہوں نے اپنی تحریروں کیلئے چھپائی کی ایک نئی طرز کو فروغ دیا۔
یہاں شامل کی گئی نظم’ کَو؟’ (‘کہاں ؟’– پنجابی ‘کتھے؟’) ان کے شعری مجموعے مریاوا (جھونکا ۲۰۰۸) سے لی گئی ہے۔ ان کی کہانیوں کی طرح اس نظم میں بھی تلاکسینہ زندگی کے ایک تیزی سے بیتتے لمحے کو مٹھی میں بھر کر ہمیں جینے کی گہرائیوں سے آشنا کرتے ہیں۔
پیال کاریہ وسم
پیال کاریہ وسم (پیدائش ۱۹۷۱) سنہالہ ادیب، تھیئٹر سے وابستہ اور لیکچرر ہیں۔ وہ فکشن کی چھ کتابوں کے مصنف اور پانچ سے زائد تھیئٹر کے کھیلوں کے خالق ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف اصناف میں فلموں کی تحریر اور ہدایت کاری بھی کر چکے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر انہیں چودہ قومی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی کئی کتابوں کے سنہالی سے انگریزی میں بھی ترجمے کئے جا چکے ہیں۔
یہاں پیش کی گئی کہانی ان کے تازہ ترین مجموعے رِدی ریاکی کلو دیویئکی (سنہری رات، سیاہ تیندوا ۲۰۲۵) سے لی گئی ہے اور اردو ترجمے کے ساتھ ساتھ سنہالی کہانی کا ایک حصہ بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ کہانی سنہالی کے عوامی اور دیہاتی لہجے میں لکھی گئی ہے اور دوردراز کے زرعی دیہات پر صنعت کاری کے ماحولیاتی اور سماجیاتی اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔
گیا ناگاہوتہ سری لنکا سے تعلق رکھنے والی ادیب، معلم اور تھیئٹر پریکٹیشنر ہیں جوسنہالی اور انگریزی دونوں میں کام کرتی ہیں ۔وہ کئی معروف افسانوں ، شاعری اور ڈراموں کے مجموعوں کے تراجم اور انعام یافتہ فلموں کے زیرنویس (سب ٹائٹلز) پر کام کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ قومی سطح پر تھیئٹر اور ادبی جیوریز کی بھی رکن رہ چکی ہیں۔ ان کی تحریریں کامن ویلتھ اڈا، لٹریری شنگھائی اور سارک جرنل جیسے بین الاقوامی فورمز اور وِمن لمیٹڈ (بھارت)، بلڈایکس بُکس (برطانیہ) اور سری لنکا کے نامور ناشروں کی شائع کردہ کتابوں میں چھپ چکی ہیں۔ وہ ادبی جریدے روایات کی غیرفکشن ادارت بھی کر چکی ہیں۔

