FICTION

دھان کی فصل

مصنف: علی اکبر ناطق ۔ مصوّرۃ: زہرا حیدر

Artwork by Zehra Haider, showing a blue and white sky, and a green field with green trees
Zehra Haider. 3.5 x 4.3in.

مجھے احساس نہیں تھا گائوں میں کتنے موسم آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ یہ خبر تو اُس وقت ہوتی جب بدلتے موسموں کا معمول باقی نہ رہتا۔ مجھے تو اتنا معلوم تھا ساون کی بارشوں میں جامن کے پیڑوں پر جامن رس بھرے اور پکے ہوتے ہیں۔ آم کے باغوں میں کوئلیں بولتی ہیں اور مکئی کی فصلوں کے رنگ سیاہی مائل ہو جاتے ہیں۔ بیساکھ میں گندم کی فصلوں کا رنگ سونے جیسا تپ جاتا ہے اور پوہ ماگھ میں امرودوں کے باغوں میں طوطوں کی ڈاریں اُترتی ہیں۔

یہ اکتوبر کے آخری دن تھے۔ دھان کی فصل کٹ چکی تھی بعض کھیت کٹنے والے تھے۔ کٹی ہوئی فصل پودوں سمیت سوکھنے کے لیے رکھی تھی۔ خشک دھان کے چھوٹےگٹھڑ بنا لیے گئے تھے۔ کھیتوں میں جا بجا مٹی کی لمبوتری سی قبریں بنا کر اُن پر دھان کے یہ گٹھڑ جھاڑے جا رہے تھے تاکہ مونجی پودوں سے الگ ہو جائے۔ یہ مٹی کی ڈھیری جسے ہم قبر کہتے، اِسے بنانے کے لیے پہلو ہی کی مٹی کھود کر اوپر ڈالی جاتی تھی جس کے سبب ڈھیری کےاَگلی طرف گہری سی کھائی بن جاتی۔ ہم جیسے ہی دھان کے پودے کو مٹی کی بلند ڈھیری پر مارتے، مونجی جھڑ کر اُسی کھائی میں گرجاتی اور خالی پودا ہاتھ میں رہ جاتا۔ ہم اِن خالی پودوں کے گٹھڑوں کو ایک طرف رکھ دیتے۔

نومبر کا آغاز ہونے والا تھا۔ موسم میں سردی کی لہر داخل ہو گئی تھی۔ گائوں کے ارد گرد گنے، باجرے اور جوار کے کھیت بھی تھے لیکن زیادہ تر دھان کی فصلیں تھیں جنہیں کاٹ دینے کے بعد زمین ایک طرح سے ننگی ہو گئی تھی اور دھان کے آدھے سبز اور آدھے سوکھے پودے جگہ جگہ ڈھیر کی شکل میں نظر آتے تھے۔ ہم اِنہیں پرالی کہتے تھے۔ دھان کی جڑیں جنہیں بُچڑ کہتے، ابھی تک زمین میں پیوست تھیں۔ اِن جڑوں پر ایک مہینہ تک ہل نہیں پھیرا جانا تھا۔ بُچڑ والے کھیتوں میں چرواہوں نے بکریاں اور بھیڑیں چھوڑ رکھی تھیں اور خود لمبے بانس کی چھڑیاں لیے اُن کے آگے پیچھے پھرتے تھے ۔مونجی جھاڑنے والوں کے بچے ٹھنڈے اور نرم کھیتوں میں آس پاس کھیل رہے تھے۔ جو ذرا بڑے تھے وہ ماں باپ کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔

جب مَیں اپنی ماں اور ابا کے ساتھ کام کے لیے گھر سے نکلتا تو ہم اپنی تین بکریاں اور دو بھینسیں اُسی کھیت میں لے جا کر چھوڑ دیتے تاکہ کام کے دوران مویشی چرتے رہیں۔ مجھے اُس وقت بہت اچھا لگتا جب کوئی پرندہ اُڑ کر چرتی ہوئی گائے یا بھینس کی پشت پر بیٹھ جاتا اور مزے سے جھولے لیتا۔ بعض چڑیاں بھینس کے سینگوں پر بیٹھ کر اُس کے کانوں میں ٹھونگے مارتیں اور وہ سکون سے چرتی رہتی۔

مونجی جھڑجانے کے بعد پرالی مویشیوں کے سوکھے چارے کے کام آتی اور سارا سال سبز چارے میں ملا کر اُنھیں کھلائی جاتی۔ بالکل اُسی طرح جیسے گندم سے الگ ہونے والا بھوسا خشک چارے کے طور پر کام دیتا تھا۔ گندم کی کٹائی گرمیاں شروع ہونے سے پہلے ہوتی تھی اور دھان کی کٹائی سردیاں شروع ہونے سے پہلے ہوتی۔

 گندم کی کٹائی کی نسبت مجھے دھان کی کٹائی زیادہ اچھی لگتی کیونکہ اِس وقت گرمی نہیں ہوتی تھی اور کھیت ٹھنڈا اور نرم ہوتا۔ پرالی خارش بھی نہ کرتی تھی۔

 اِن شروع سردیوں کےدنوں میں دھان کے کھیتوں میں کام کرنا خوش کن تھا۔ میری والدہ گٹھے باندھ کر رکھے جاتی۔ مَیں اور ابا جی اُن گٹھوں کو مٹی کی ڈھیری پر مار کر چاول کو پرالی سے الگ کرتے۔ چار پانچ گھنٹے مسلسل کام کرتے۔ موسم خاص کر شام کے وقت بہت دلکش ہو جاتا جب پرندے کھیتوں سے نکل کر اُڑتے۔ پھر شفق کی طرف غروب ہونے لگتے۔ چرواہے اپنی بھیڑوں کو کھیتوں سے نکال کر گائوں کی طرف ہانکنے لگتے۔ یہ ہمارے گھر بھی جانے کا وقت ہوتا۔ مَیں اپنے والدین کے ساتھ مل کر مونجی کو بوریوں میں ڈالتا اور اُنھیں بیل گاڑی پر رکھ کر گھر کی جانب چل پڑتا۔ گھر پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو جاتا۔ یہی وقت تھا جب جگنوئوں کی لالٹینیں جگمگانا شروع ہو جاتیں اور عشا تک اتنے جگنو جگمگ جگمگ کرنے لگتے جیسے ہر طرف کے کھیت کھلیان اور گھر ستاروں سے بھر گئے ہوں۔

ہمارا مونجی کی کٹائی اور جھاڑ کا کام تین ہفتے تک جاری رہتا۔ اُس کے بعد کھیتوں کو ایک مہینہ ویسے ہی چھوڑ دیا جاتا جس میں مال مویشی چرتا رہتا اور پرندے چاول کی چوگ چگتے رہتے۔ اِس وقفے میں کوئی کسان اپنے کھیتوں میں آنے سے منع نہ کرتا۔

جتنی مونجی ہم دھان کے پودوں سے الگ کرتے، شام کو اٹھا کر گھر لے آتے اور اُسے صحن میں پھیلا دیتے۔ گھر کا صحن دو کنال کا کھلا تھا۔ صحن میں دھوپ زیادہ نہیں تھی کیونکہ گھر کی دیوار کے ساتھ پاپلر، ٹاہلی، شرینہہ اور بیری کے بہت سے درخت تھے لیکن ہم سردیاں شروع ہوتے ہی اِن کی اکثر شاخیں کاٹ دیتے تاکہ دھوپ صحن میں آ سکے۔ یہ دھوپ اتنی تیز تو نہیں تھی لیکن ہماری مونجی سکھانے کے لیے کافی تھی۔ گائوں کے دوسرے صحنوں کی طرح ہمارا صحن بھی کچا تھا جسے میری ماں سردی آنے سے پہلے ہی بھوسے ملے گارے سے لیپ دیتی تھی۔ سینکڑوں پرندے چاولوں کی چوگ چگنے صحن میں جمع ہو جاتے۔ اِن کی آوازیں بھی مختلف تھیں، کوئے کے سوا سب کی سب سُریلی اور کانوں میں رس گھول دینے والی۔ مَیں نے اپنی طرف سے کئی پرندوں کی بولیاں بولنے کی مہارت حاصل کر لی تھی مگر کبھی کوئی پرندہ میری آواز پر قریب نہ آتا تھا۔ میرا دل چاہتا اِن کو پکڑ لوں مگر وہ اتنے چوکنا ہوتے کہ ارادہ بھانپتے ہی اڑ جاتے۔ گھر میں بیری کا درخت اونچا اور گھنا تھا۔ اِس کی شاخیں سرو کی طرح سیدھی اور بہت گھنی تھیں اور پتے خوشبو دار تھے۔ صحن کے پرندے دانہ چگنے کے بعد بیری پر ہی بیٹھتے۔ میری خواہش تھی سارا سال پرندوں کو اِسی طرح صحن میں دیکھوں اور یہ خواہش پوری ہوتی تھی۔

فصلوں کی کئی قسمیں تھیں۔ گندم، دھان، گنا، مکئی، کپاس، مویشیوں کا چارہ، باجرہ، جوار، دالیں، تِل مرچیں، گوارہ کی پھلیاں، لوبیا اور پٹ سن مگر پانچ فصلیں ایسی تھیں جو سب کی ضروریات پوری کر کے بہت زیادہ بچ جاتیں۔ ہمارا معمول تھا فالتو غلہ شہر بیل گاڑیوں پر لاد کر منڈی میں بیچ آتے۔ اُن کے بدلے ضروریات کی دوسری چیزیں خرید لاتے۔ میری مرغوب غذا سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی تھی۔ چاولوں کو ساگ میں ملا کر بھی شوق سے کھاتا تھا۔ سکول گھر کے ساتھ ہی تھا اور دسویں جماعت تک تھا۔ لڑکوں کی اکثریت تو دسویں پڑھ کر ہی مکمل کھیتوں کے ہو جاتے اور تمام عمر اِسی میں بسر کر دیتے۔

ایک دن اِسی دھان کی فصل کا زمانہ تھا۔ مَیں نویں جماعت میں تھا۔ چھٹی ہوئی تو بستہ گھر رکھ کر ٹوکرے کے نیچے سے مکھن کا پیڑا، صبح کا پکا ہو دیسی گھی کا پراٹھا اور ساگ نکال کر کھایا اور سیدھا دھان کے کھیت کی طرف چل دیا تاکہ والدین کے ساتھ دھان کے پودوں کو مونجی الگ کروں۔ وہاں جا کر دیکھا تو مویشی دھان کے خالی کھیتوں میں چر رہے تھے، امی کام کر رہی تھی مگر ابا میاں موجود نہیں تھے۔ مَیں نے امی سے پوچھا میاں جی کدھر ہیں؟ مَیں اپنے ابا کو میاں جی کہتا تھا۔

اُس نے جواب دیا، بیٹے بالن خاں سب فیدے جگو کے باغ میں جمع ہوئے بیٹھے ہیں۔ ولایت سے کوئی بڑا آدمی آیا ہے۔ اُس کے پاس بھری ہوئی دوائیوں کی ایک ٹرک ہے۔ وہ لوگوں کو فصلوں کی بابت کچھ بتا رہا ہے، جا کر تُو بھی سن لیو۔

فیدے جگو کا باغ میرے سامنے ہی دُورآدھے کلومیٹر پر تھا۔ مَیں بھاگتا ہوا وہیں پہنچ گیا۔ دیکھا تو گائوں کے سب مرد وہیں بیٹھے تھے۔ اُن کے آگے دیوار کے برابر سکرین لگی ہوئی تھی جس میں تصویریں چل رہی تھیں۔ ایک کرسی پر بابو قسم کا بندہ پاجامے اور شرٹ میں گورے رنگ کا بیٹھا تھا۔ سکرین کی فلم میں فصلوں پر کچھ آدمی دوائی کی سپرے کر رہےتھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کیونکہ دیر سے پہنچنے کی وجہ سے اِس کا آگا پیچھا نہیں جانتا تھا۔ فلم ختم ہوئی تو وہ بابو صاحب اُٹھ کر بولنے لگا۔

اُس نے کہا دیکھو بھائیو جب تم فصل کاشت کرتے ہو تو فلاں فلاں جڑی بوٹیاں خود اُگ آتی ہیں۔ اگر تم اُنہیں نہیں اکھاڑتے تو فصل کا آدھا پانی اور زمین کے نمکیات جڑی بوٹیاں کھا لیتی ہیں اور غلہ بہت کم ہوتا ہے۔ اگر اِنہیں فصل کے درمیان سے ہٹاتے ہو تو محنت بہت کرنا پڑتی ہے پھر یہ بھی خبر نہیں کہ آج جڑی بوٹیاں اکھاڑ کے باہر پھینکو اور اگلے ہی دن بارش ہو جائے اور وہ پھر اُگ آئیں۔ تم خود دیکھو یہ رنگ برنگی جڑی بوٹیاں ختم کرنے کے لیے ہر وقت گوڈی چوکی میں لگے رہتے ہو۔ تمہیں اندازہ نہیں اِس محنت کی کیا قیمت ہے؟ یہی وقت کسی اور کام میں صرف کرو تو کتنا فائدہ کمائو؟ اِس کے علاوہ فصلوں میں کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جیسے پھپھوندی اور فنگس۔ اِن کے علاوہ سب سے بڑی تعداد میں چوہیاں جنم لے لیتی ہیں۔ وہ پودوں کو سرے سے ہی کاٹ کھاتی ہیں اور کماد کا تو ایسے صفایا کر دیتی ہیں جیسے وہ کاشت ہی نہ کیا گیا ہو۔ ایسی چیزیں پودوں کی جڑوں کو ہی کھا جاتی ہیں۔ میری یہ دوائی ایک بار استعمال کرو گے تو تمہاری اتنی محنت بچے گی کہ اُس وقت کے عوض کوئی نیا کاروبار شروع کر سکتے ہو۔ دوائی کے ایک ہی سپرے سے فالتو جڑی بوٹیاں سڑ جائیں گی اور فصل کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ رہی قیمت، تو وہ محنت اور فصل کے نقصان کی نسبت بالکل معمولی ہے۔

اِس کے بعد اُس نے دوائی کی قیمت اور کسان کی محنت کا حساب کر کے جو رقم بنائی وہ مفت جیسی تھی۔ جس پر سب حیران تھے۔ لوگوں کو مرعوب ہوتا دیکھ کر وہ مزید بولا اور بتانے لگا، فلاں کسانوں اور فلاں گائوں والوں نے تین سال پہلے دوائی کا استعمال کیا اور آج اُن کے مکان پکے بن گئے ہیں۔ شہروں میں گھر خرید رہے ہیں۔ بچے شہروں میں بڑی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وغیرہ۔

اُنہوں نے دوائی کی ترسیل کے بارے میں بتانا شروع کیا اور کہا، فی الحال مَیں تمہیں اِس بار یہ دوائی مفت دے کر جا رہا ہوں۔ مکئی اور گندم کی فصل میں ڈال کر آزما لو۔ اگر تمہیں لگے کہ مَیں واقعی تمہارا بھلا کرنے آیا ہوں تو اگلی بار بہت کم قیمت پر تمھیں دوں گا۔ دھان کی فصل کے لیے بھی اگلے سال تو مفت دوں گا، پھر آگے تمہاری مرضی۔

اِس تمام عمل کے بعد اُس نے کہا، اگر تم اِس بارے میں کوئی سوال کرنا چاہتے ہو تو کر سکتے ہو۔

سب سے آگے میاں انور علی بیٹھے تھے۔ اِس کی زمین بھی سب سے زیادہ تھی۔ وہ بولا، میرا ایک سوال ہے، اِس دوائی میں جو زہر استعمال ہوئی ہے، جب ہم اِسے زمین میں ڈالیں گے تو فصل زہریلی نہیں ہو جائے گی؟ پھر ہم خود اِسے کاٹتے ہیں اور ہمارے بیل اور گائے بھینسیں یہیں چرتے رہتے ہیں۔ اُن کے اندر یہ دوائی جا کر کیا اثر ڈالے گی؟

ہر گز نہیں، دوائی والے نے جواب دیا۔ دوائی کا سپرے چار پانچ دن تک اثر رکھتا ہے۔ آپ اِس دوران اپنے جانوروں کو فصل میں داخل نہ ہونے دینا۔ ویسے بھی کوئی بیوقوف ہی ہو گا کہ دھان، گندم، گنا یا مکئی جیسی فصلوں میں کوئی اپنے جانور چھوڑ دے۔ میری دوائی کا ایک ہی سپرے پہلے تین دن میں ہی تمام جڑی بوٹیوں اور چوہوں کا صفایا کر دے گا۔ پھر چاہے بارش آ جائے۔ بارش پودے کو دھو کر ویسے ہی صاف کر دے گی جیسے وہ پہلا تھا۔

اُس کی اس بات پر قہقہ بلند ہوا۔ بلکہ میاں شفیع نے اِس پر ایک جملہ چھوڑا، جی ہاں بابو صاحب، جیسے اللہ میاں ہمارے حکم کا پابند ہے، کہ اِدھر فصل میں دوائی کو تین دن پورے ہوئے اُدھر خدا نے بارش کو حکم دے دیا کہ جائو، ولایتی بابو کے سپرے کو دھو آ۔

میاں شفیع کے اِس جملے سے سب نے لطف لیا اور ہنسنے لگے لیکن دوائی والے بابو کا منہ بن گیا، مگر دیہاتیوں کا ساتھ دیتے ہوئے وہ بھی ہلکا سا ہنس دیا۔ شاید کاروباری حضرات کو اپنے کاروبار کی ابتدا میں اپنے فرعونی جذبے کو بچا کر رکھنے کی تربیت فطرت سے ملتی ہے۔

پھر اُس سے پہلے کہ کوئی دوسرا شخص مزید مذاق اڑاتا فرید آرائیں نے بات آگے بڑھائی اور کہا، دیکھو میاں فصل میں دوائی کا سپرے اچھا فیصلہ ہے، اِس سے یہ تو ہو گا کہ لوگ فصلوں میں جانور چھوڑ کراُجاڑا نہیں کریں گے۔ وہ خود ہی اپنے جانوروں کو کھیتوں سے دور رکھیں گے۔ اِس طرح تو مفت میں فصل کی حفاظت بھی ہو تی رہے گی۔

وہ یہ سب باتیں کر رہے تھے اورسوال و جواب چل رہے تھے۔ اُسی دوران میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ مجھے لگا، نیلی، کالی، سبز دھانی رنگوں کی تتلیاں، جگنو، چیکن ووہٹیاں، عک گھوڑے اورسینکڑوں طرح کے معصوم پرندے، غرض میرے تمام کنبے کو زہر دینے کا بندوبست کیا جا رہا ہے اور سب اِس بات پر خوش بھی ہیں۔ اگر ایسا نہیں بھی تو اِس کا فیصلہ کیسے ہو گیا کہ جنہیں وہ دشمن کہہ کر زہر دینے چلا ہے، واقعی وہ دشمن ہیں؟ اگر یہ معمولی جڑی بوٹیاں دشمن بھی ہوں تو پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی کتنی بڑی کائنات کا انکار کیا جا رہا ہے۔ کیا خدا نے اِس تمام مخلوق کو بے مقصد پیدا کیا ہے۔ یہ چھوٹے ھچوٹے جگنو تو سپرے والے پتوں اور پودوں پر بیٹھتے ہی مر جائیں گے۔ اِن خیالات سے میرا دم رُکنے لگا۔ مجھے لگا جیسے میرے سینے پر بوجھ زیادہ ہو گیاہے۔ مَیں وہاں کھڑے کھڑے پسینے سے بھیگ گیا حالانکہ یہ دن گرمی کے نہیں تھے۔

اُس نے دس بارہ کسانوں کے سوال پر تسلی بخش جواب دیے اور وہ سب مطمئن ہو گئے۔ تب اِس بابو افسر کے ساتھ آئے ہوئے دو افراد نے گاڑی سے چالیس پچاس ڈبے دوائیوں کے نکال کر زمینداروں کو تقسیم کر دیے اور اُن کے نام لکھ کر انگوٹھے لگوا لیے۔ اُس کے بعد سب کو اشارہ کیا کہ آئو اب ہم چائے پئیں۔

جیسے ہی وہ اٹھنے لگے اُسی وقت مَیں نے بھی ایک سوال کر دیا۔ مجھے لگا جیسےمیری سون چڑی کو قتل کر کے اِنہوں نے اپنے فرض سے سبک دوشی حاصل کر لی ہے۔ مَیں نے اونچی آواز میں کہا، صاحب جی میرا بھی ایک سوال ہے۔ اِس آواز پر تمام لوگوں نے مُڑ کر میری طرف دیکھا، کیا  اِس دوائی سے وہ پرندے نہ مریں گے؟ جن کے پاس یہ عقل نہیں کہ وہ دوائی کیے گئے کھیت سے دُور رہیں۔ جس فصل میں دوائی کا سپرے کیا جائے گا وہاں دانہ دنکا چگنے والی مخلوق بھی مر جائے گی۔ سارے جگنو ختم ہو جائیں گے۔ اُس کے لیے آپ نے کیا حل نکالا ہے؟

میرے اِس سوال پر وہ ولایتی افسر ایک دم چُپ اور سنجیدہ ہو گیا لیکن کسانوں کی طرف سے ایک بھرپور قہقہ بلند ہوا جیسے مَیں نے کوئی احمقانہ بات کر دی ہو۔ میاں انور علی نے کہا، لو جی یہ بچارا اپنی چڑیوں اور لالیوں کی فکر میں ہے۔ میاں اچھا ہی ہو گا اگر فصل کی تباہی پھیلانے والے طوطوں سے جان چھٹے گی۔ اِس کے بعد کسی نے بھی میری بات کا جواب نہیں دیا اور مَیں روہانسا ہو کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ بابو افسر نے جلدی سے لوگوں کو دوائی کی تقسیم میں مصروف کر دیا۔ اُس کے دونوں ملازم ہر کسان کو زہر کے ڈبے تقسیم کرنے لگے۔ جتنے ڈبے کسان مانگتا تھا، اُسے اتنے ہی دیے جا رہے تھے۔ جیسے یہ مفت کا مال واقعی ہیرے اور جواہرات کے ڈبے ہوں۔ زہر تقسیم کرنے کے بعد سب کو مٹھائی اور چائے کی طرف بلایا گیا۔

میرا بالکل دل نہ چاہا کہ چائے اور جلیبی کھائوں جو اُسی بابو افسر نے اپنے پیسوں سے وہاں لا کر رکھی تھی۔ جب کسان جلیبی کھانے میں مصروف ہو گئےتو بابو افسر چلتا ہوا میرے قریب آیا اور مجھے مخاطب کر کےبولا، بیٹا، کون سی کلاس میں پڑھتے ہو؟

اُس نے پورے مجمعے کو نظر انداز کرتے ہوئے جب صرف مجھے توجہ دی تو مجھے ایک دم اپنی ذات پر فکر محسوس ہوا۔ گویا گائوں کے اِن بڑے لوگوں سے زیادہ اہم ہوں جنہوں نے میری بات کو محض ایک قہقہے میں اُڑا دیا تھا۔ اِس بات پر مجھے وہ افسر بابو دل ہی دل میں اچھا لگنے لگا اور مَیں نے جھٹ جواب دیا، جی صاحب مَیں نے ابھی دسویں جماعت کا امتحان دیا ہے۔

اُس نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا، دیکھو بیٹے جہاں اتنا بڑا فائدہ ہو رہا ہو وہاں اتنا سا نقصان تو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ ورنہ دنیا آگے کیسے بڑھ سکتی ہے؟

یہ چھوٹا نقصان کیسے ہو گیا؟ مَیں نے اُس کی طرف حیرت سے دیکھ کر کہا، کیا ہزاروں پرندوں، جگنوئوںاور کیڑے مکوڑوں کوآپ چھوٹی سی چیز سمجھتے ہیں؟

وہ کچھ دیر چُپ رہا پھر بولا، اچھا چھوڑو اِس بات کو، تمھارے کہنے سے اب نہ یہ کسان میری دوائی خریدنا بند کریں گے، نہ ایسی باتیں اِس زمانے میں قیمت رکھتی ہیں۔ تم یہ بتائو، تمہاری کتنی زمین ہے؟

ہماری پانچ ایکٹر زمین ہے، مَیں نے گویا اپنی پہلی بات بھولنے کا آغاز کرتے ہوئے جواب دیا۔ کیونکہ واقعی میری بات کو دیہات والوں نے کوئی وقعت ہی نہیں دی تھی۔ 

دیکھو اتنی تھوڑی سی زمین سے تم بڑے خواب نہیں دیکھ سکتے۔ اُس نے بولنا شروع کیا، زیادہ سے زیادہ دو وقت کی روٹی کھا لو گے۔ زندگی بھر شہر میں گھر نہیں بنا سکتے، گاڑی نہیں لے سکتے، بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھ نہیں سکتے۔ تمہارے والدین بیمار ہو گئے تو اُن کا علاج نہیں کرا سکتے۔ اُنہیں حج نہیں کرا سکتے۔ تم نے کبھی غور کیا کہ تم شہر کے اُن لڑکوں سے زیادہ خوبصورت بی ہو،عقل مند بھی ہو مگر تم اُن کی طرح نہ اچھے کپڑے پہن سکتے ہو، نہ خوبصورت لڑکیوں سے دوستی کر سکتے ہو، نہ کبھی شہر کی پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کر سکو گے۔ سارا دن اِنہی پھٹے کپڑوں میں رہتے ہو، انہی میں بوڑھے ہو جائو گے۔ گائوں کی کوئی دیہاتی اور ان پڑھ سی لڑکی سے شادی ہو گی جسے کام سے اپنا ہوش نہیں رہے گا تمھاری دیکھ بھال کیسے کرے گی؟

شہر میں تو امیر لوگ رہتے ہیں۔ اُن کے پاس بہت سے پیسے ہوتے ہیں اور بڑے مکان ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس تو تھوڑی سی زمین ہے۔ پھر نہ کبھی ہمارے باپ دادا شہر میں رہے، نہ ہم رہ سکتے ہیں۔ مَیں نے اُسے اپنی طرف سے تسلی بخش جواب دیا۔

بابو افسر نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، تمہیں کس نے کہا شہر میں امیر لوگ رہتے ہیں۔ اُن میں سے اکثر تو تم لوگوں سے بھی زیادہ غریب ہوتے ہیں اور وہ بھی ایسے ہی روایتی سوچ سے باہر نہیں نکلتے جیسے تم اِس وقت اپنی اس حالت پر ضد کر رہے ہو۔

تو پھر کیا کروں؟ مَیں نے سوچتے ہوئے پوچھا، واقعی آج تک ہماری کوئی بچت نہ ہوئی تھی۔ یہ سب چیزیں جو یہ بابو افسر بتا رہا تھا، اِن کا تصور بھی گائوں والے نہیں کر سکتے تھے۔

اُس نے فوراً کہا، ویسے اگر تم چاہو تو میری کمپنی میں ملازمت کر سکتے ہو۔ اِس گائوں سے تمہیں کیا ملے گا؟ کچھ بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ تمام دن کام کرنے کے بعد شام کو جگنو دیکھ لیا کرو گے، جس پر تمہیں اصرار ہے۔ بھئی شہر میں جب تمہارے سامنے دوسری چیزیں آئیں گی تو تمہیں یہ چڑیاں اور جگنو یاد بھی نہیں رہیں گے۔ مَیں تمہیں اچھی تنخواہ دوں گااور پڑھائوں گا بھی۔ لاہور کی اچھی یونیورسٹی میں تعلیم دلائوں گا۔ پھر اگر تم چاہو تو اپنے گھر میں ہی بیسیوں پرندے پنجروں میں ڈال کر رکھ لینا۔

جیسے ہی اُس نے تنخواہ کی بات کی اور جیب سے لال رنگ کا نوٹ نکال کر میری جیب میں ڈالا مجھے اپنے پرندے بالکل ہی بھول گئے۔ اتنی بڑی رقم تو پہلے مَیں نے خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ مَیں نے کیا، میرے ابے نے نہیں دیکھی تھی۔ میری آنکھوں میں اُس کے لیے تشکر کی فضا پیدا ہو گئی۔

جاتے ہوئے اُس نے میرے والدین سے کہا، یہ لڑکا میرے ساتھ رہے گا۔ اِس کی تعلیم اور تنخواہ میرے ذمے ہے۔ اُس کے بعد اگلے تین چار دن کے بیچ مَیں نے اپنے گائوں سے بوریا باندھا اور لاہور نکل آیا مگر ہر مہینے گائوں ضرور جاتا تھا۔ افسر بابو نے واقعی اپنا وعدہ پورا کیا تھا۔ ایک بہترین کالج میں پڑھائی کے ساتھ میرا کام اور محنت اتنی زیادہ تھی کہ مَیں جلد ترقی کرنے لگا اورپانچ سال میں اُس کی فیکڑی کا مینجر بن گیا۔ یہ ایسی انہونی تھی جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ پھر اگلے دو سال میں بڑی سی گاڑی بھی مل گئی۔ اِسی دوران میرے ساتھ کام کرنے والی ایک لڑکی سے میرا معاشقہ چل گیا اور اُسی سال میں نے اُس سے نکاح کر لیا۔

مَیں اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ شہر لے آیا مگر وہ دونوں چھ ماہ بعد ہی وآپس گائوں چلےگئے۔ دونوں کا شہر میں بالکل دل نہ لگا۔ کام کی مصروفیت اور شہر کی ہوا میں اتنا مگن ہوا کہ مَیں خود کئی سال تک گائوں نہ جا سکا۔ گویا اُنہی کارخانہ داروں میں سے ایک فرد بن گیا۔

بلکہ ایک کے بعد ایک نئی آفر نے مجھے ملٹی نیشنل کمپنیوں میں جانے کا موقع دیا اور مَیں بیرونِ ملک بھی جاتا رہا۔

پندرہ سال بعد اب مَیں خود ایک کمپنی تھا۔ دوائیوں کی مارکیٹنگ میں میرا نام ایک برانڈ تھا۔ بیرونِ ملک دورے کرتا تھا۔ جہازوں میں اُڑتا تھا۔ سینکڑوں ملازمین میرے ماتحت کام کرتے تھے۔ مَیں نے والد کی خواہش کے برعکس گائوں میں اُن کے لیے بڑا سا گھر بنوا دیا۔ ایک فارم ہائوس خرید لیا۔ ماہ و سال گزرتے گئے۔ مَیں نے پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا اور کمپنی کی ترقی کے لیے دن رات کام میں لگا رہا۔ میری کمپنی کی ادویات ملک کے تمام شہروں میں ہوا کی طرح پھیل گئیں۔ ادویات کے ساتھ کھاد اور دوسری زرعی مصنوعات بھی ہماری کمپنی مارکیٹ میں لے آئی اور اُنھیں فصلوں کی خریداری کے عوض کسانوں اور زمینداروں کو فروخت کرنے لگے۔ ا،س سے ہمارا منافع کئی گنا بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ اس معاملے میں بڑے بڑے کسان اور زمیندار ہمارے مقروض ہو گئے۔ اُن کی اجناس ہماری مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہوتی گئیں۔ آخر اِس کام میں پچیس سال نکل گئے۔ ایک دن مجھے اطلاع ملی میری والدہ سخت بیمار ہے۔ مَیں نے پہلی فرصت میں گائوں جانے کا ارادہ کیا۔ آخری بار جب گائوں گیا تھا تو آج سے پندرہ سال پہلے کی بات تھی۔ اتنے عرصہ بعد گائوں مجھے زیادہ یاد آنے لگا تھا۔

مَیں نے کراچی سے صبح کی فلائیٹ لی اور لاہور آ گیا۔ یہاں میری کمپنی کا ڈرائیور مجھے لینے کے لیے ائرپورٹ پر موجود تھا۔ مَیں نے اُسے ہدایت دی کہ لاہور آفس یا گھر جانے کے بجائے گاڑی سیدھا گائوں کی طرف پھیر لے۔ گائوں یہاں سے تین گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ یہ موسم وہی دھان کی کٹائی کا تھا۔ گرمی ختم ہو چکی تھی اور ہوا میں ہلکی سی سردی کی لہر تھی۔ مَیں جیسے ہی گائوں میں داخل ہوا، مجھ سے اُس کے درودیوار پہچانے نہ گئے۔ کچی دیواریں پکی تو ضرور ہو چکی تھیں۔ مگر اُن میں خوش حالی نظر نہیں آ رہی تھی۔ لوگوں کے پاس موٹر سائیکلیں آ گئی تھیں اور وہ سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں۔ سڑکیں تنگ ہو چکی تھیں جن میں جگہ جگہ گٹرتھے اور اُن سے پانی اُبل اُبل کر تعفن پھیلا رہا تھا۔ میرا اپنا مکان پکا اور بلند ہو چکا تھا مگر اُس میں بھی پہلی سی خوشبو نہیں تھی۔ پہلے ہمارے گھر پر درختوں کا سایہ ہوتا تھا۔ اب وہ کہیں نہیں تھے اور جو اِکا دُکا تھے اُنہیں بلند مکانوں نے دبا لیا تھا۔

شام کو مَیں اُنہی کھیتوں کی طرف چل پڑا جہاں آخری بار دھان کی فصل کی کٹائی کی تھی۔ مجھے وہاں پہنچ کر شدید دُکھ ہو رہا تھا۔ اِن میں نہ وہ کُہنہ مہک تھی۔ نہ ارد گرد بھیڑیں اور مویشی چر رہے تھے۔ نہ کوئی پرندہ تھا نہ اُن کی چہکار تھی۔ نہ کوئی شخص دھان کی کٹائی کر رہا تھا۔ پرالی کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہر طرف بے رونقی تھی۔ ہوا میں بھی جیسی پہلے ٹھنڈک ہوتی تھی وہ بھی غائب تھی۔ نومبر آ جانے پر بھی ابھی تک گرمی کی حرارت باقی تھی۔ جہاں چھوٹے چھوٹے کھیت اور اُن کے ارد گرد پگڈنڈیوں پر سایہ دار درخت تھے وہاں اب لمبے چوڑے پلاٹ بن چکے تھے جن میں ہل پھر چکے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اِنہوں نے دھان کی فصل اُگانا ہی بند کر دی ہے۔ پگڈنڈیوں پر سے درخت بھی غائب تھے، بلکہ پگڈنڈیاں ہی غائب تھیں۔

مَیں نے راہ چلتے ایک کسان لڑکے سے پوچھا، میاں کیا لوگ دھان کی فصل بونا چھوڑ گئے ہیں؟ وہ بولا، نہیں یہ جو آپ کو ہر جگہ ہل پھرے نظر آ رہے ہیں، یہاں ابھی ایک ہفتہ پہلے دھان تھے۔ مَیں نے پوچھا، اُن کی کٹائی تو ایک مہینہ جاری رہتی تھی۔ وہ میری بات سُن کر ہنس دیا اور بولا، بھائی کس زمانے کی بات کرتے ہو؟ اب تو بڑی ہارویسٹریں آ گئی ہیں۔ دو دن میں سینکڑوں ایکڑ کی صفائی کر کے کام ختم کر دیتی ہیں۔ پرالی کو آگ لگا دی جاتی ہے اور اگلے ایک ہفتے میں نئی فصل کاشت کر دی جاتی ہے۔

اور یہاں کوئی پرندے بھی نظر نہیں آ رہے؟ مَیں نے اگلا سوال کیا، جب مَیں اِس گائوں میں رہتا تھا تو ہزاروں پرندے کھیتوں میں اور درختوں پر چہکارتے تھے۔

اے بابو افسر اِس بات کو ایک زمانہ ہوا۔ اُس نے بتانا شروع کیا، جب سے یہ نامراد زرعی دوائیاں آئی ہیں، بچاری پرندوں کی مخلوق تو ٹھکانے لگ گئی۔ سب مر گئے۔ اب تو بس یہ کوئے بچ گئے ہیں۔ اِنہی کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر لو۔ طوطے، چڑیاں لالیاں، فاختہ، سون چڑی، غرض سُنتے تھے یہاں خوبصورت پرندے اور جگنو ہوتے تھے، مَیں نے تو جب سے ہوش لیا بس اُن کا نام ہی سُنا ہے۔ دوائیوں نے سب کا نشان مٹا دیا۔

مَیں اُسی ہل جتے بے رونق کھیت میں بیٹھ گیا۔ ہائے، اے کاش مَیں گائوں سے نہ نکلتا۔ اپنے اِسی کنبے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ہوتا لیکن مَیں تو خود اِن کے قتل میں شریک تھا ۔مَیں وہ شخص جس نے اِن کے متعلق سوال اُٹھایا تھا، اپنے سوال کی قیمت سے سستا بِک گیا۔ میرا جسم کپکپانے لگا اور ماتھے پرپسینہ رُکنے کا نام نہیں لیتا تھا۔

Black and white photograph of Ali Akbar Natiq, sitting with a book in his lap

 علی اکبر ناطِق ایک پاکستانی ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر ہیں۔ ناول ’’نولکھی کوٹھی‘‘ ان کی وجہ شہرت بنا۔ اب تک ان کی شاعری اور افسانوں کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ 2010ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’بے یقین بستیوں میں‘‘ چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’قائم دین‘‘ چھپا، جسے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اسے یو بی ایل ایوارڈ ملا۔

1. Zehra Haider

Zehra Haider is a multidisciplinary creative exploring typography, illustration, printmaking, animation, and embroidery. A substantial portion of her portfolio is deeply rooted in her religious and cultural identity. Working under the artist alias “Khanabadosh Art,” which reflects the idea of her art bearing its own sense of belonging and having no fixed home, Zehra brings a fresh perspective and tailored approach to each project. Her artwork delves into the intricate themes of identity, culture, and religion.

Scroll to Top