درد کئی من میں چھپا رکھے ہیں

 

درد کئی من میں چھپا رکھے ہیں

رحم نے کئی تاج سجا رکھے ہیں

 

یہ زندگی جو راہِ عہد پہ نہ گزری

خود کو ظلم اپنے ہی لگا رکھے ہیں

 

اُنسِ علم و شفقت و حسیں آداب

کتنے چراغ ایسے بجھا رکھے ہیں

 

جو تم نے بویا ہے وہی تو پاو گے

زندگی نے کتنے سبق سکھا رکھے ہیں

 

ربیعِ برکھا، احساسِ خوشبوِ چمن

اس خوشبو کو کب سے بھلا رکھے ہیں

 

ختم ہو ہی جانا ہے اک دن سب کو

دل پھر کیوں دل سے جدا رکھے ہیں

 

پیغمبروں نے اک اللہ کا دیا پیغام، فرخ

پر لوگوں نے اَن گنت خدا بنا رکھے ہیں

Farrukh Ali Hassan is 19 years old and based in Okara, Pakistan. He started writing poems (in English, Urdu, and Punjabi) nearly four years ago and extended his writing capabilities to short stories in 2023. He is interested in writing different forms of poetry and short stories. He loves reading classics. Most of his writings pertain to nature, love, morality, and the beauty of things.

Scroll to Top