POETRY

دل پنجیری

شاعرۃ: ملائکہ رائے

آپ کا خادم گھٹنوں بل ہے
خونِ معصوم بھی تر ہے
ہر طرف ہیں دیے روشن
شامِ غریباں ہے پُر جوش

بدن سے لپٹا ہے ناگ
ہونٹ چٹتا ہے سفاک
نقاب اور چادر ہیں تار تار
ہر سمت ہے عزرائیل کا راگ

معصوم کا قتلِ عام
پاک سرِ عام ناپاک
آنسو تیل، دیے سجائے ہوئے باغ
خون و آنتڑیوں سے جلتے چراغ

باندھیے میری گردن سے درخت کی چھال
میری ہستی کیجیے پُر معانی
میرا بدن کیجیے استعمال
آنکھیں موم ہوں، لو ہوں میرے بال

میرے حلق میں ڈالیے ہاتھ
دھڑکتے دل تک کیجیے سفر
مٹھی بند کیجیے یوں
جیسے سانپ لپٹا شجر

آپ قلب یوں گرفت میں کر لیں
میری رگوں، سبو کو
اپنی سمت میں کر لیں
میرے دل کو طعامِ نظیری کر لیں

میرا دل ہے شہد
پنجیری کر لیں
میرا رشتہ عشق، گواہِ عذاب ہو
نینوں سے
پیروں سے
ہاتھوں کے میلوں سے
پکارے بہرے، گونگے خدا کو

خادم گھٹنوں بل ہے، سرکار
حکم کیجیے
دل گرفت ہے آپ کے
حیات سخن کیجیے
کہیے نا
لہو بھر حلق کا
کیا حل کیا جائے؟
خون تھوک دیں؟
یا نگل لیا جائے؟

Color photo of Malaika Rai sitting on a chair, smiling into the camera

Malaika Rai is a postgraduate in Clinical and Counseling Psychology based in Lahore, Pakistan. Her work dissects the visceral realities of female identity, navigating the suffocating weight of patriarchy and the complexities of desire. She explores the body as both an offering and a battleground, confronting the “vultures” of tradition with raw, unapologetic feminine rage.

Scroll to Top