جلتے شہد کی خوشبو

مصنف: پیال کاریہ وَسَمگَیا ناگاہَوتَّہ کے انگریزی ترجمے سے اردو ترجمہ از حماد رند

پِیال کاریہ وسّم (پیدائش ۱۹۷۱) سری لنکا سے تعلق رکھنے والے لکھاری، لیکچرر اور ناٹک کار ہیں۔ ان کی اب تک فکشن کی چھ کتابیں منظرعام پر آ چکی ہیں۔ وہ پانچ سے زیادہ ڈرامے سٹیج کر نے کے ساتھ ساتھ مختلف اصناف پر متعدد فلمیں بھی بنا چکے ہیں ۔ انہیں چودہ قومی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ان کےمختلف فن پاروں کے سنہالہ سے انگریزی تراجم ہو چکے ہیں۔

یہاں شائع ہونے والی کہانی ان کےافسانوں کے  تازہ ترین مجموعے رِدی ریاکی کالو دیویئکی (روپہلی رات سیاہ تیندوا، دسمبر ۲۰۲۵) سے لی گئی ہے۔ ذیل میں سنہالہ متن بھی دیا جا رہا ہے۔

کہانی دورافتادہ زرعی دیہات میں فیکٹری کارخانوں کی آمد سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات پہ روشنی ڈالتی ہے۔

۱

میں نے روٹی کا نوالہ ٹماٹر کے پتلے شوربے میں بھگویا اور ابھی اسے منہ میں رکھنے ہی والا تھا کہ دفعتاً ہوا میں جلتی شکر کی بو پھیل گئی۔ ساتھ ہی گنے کی فیکٹری سے بیلنا چلانے والوں میں سے کسی کی دلخراش چیخ ہوا میں بلند ہوئی۔ضرور کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے۔ میں نے بےاختیار روٹی کا نوالہ بچے کھچے سالن کے ساتھ تام چینی کی پلیٹ پر رکھا اور اسے ایک طرف دھکیل کر دوبارہ فیکٹری کو جانا چاہا مگر کوشش کے باوجود میرے بدن میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی، جیسےکسی نے میری پیٹھ بنچ سے چپکا دی ہو۔

اوہ …اوہ

سری دارا اکّا… سری دارا اکّا¹

جب میں نے سری دارا کا نام سنا تو میری پیٹھ فوراً لکڑی کے تختے سے اچھل پڑی اور میں بجری سے اٹے راستے پر چل پڑا۔ میں فیکٹری تک سرپٹ دوڑتا گیا۔ وہاں میری آنکھوں کے عین سامنے ہمارے ساتھ کام کرنے والے لڑکے لڑکیاں سری دارا کو سؤاسیوا وین میں ڈال رہے تھے جو کہ فیکٹری کی ملکیت تھی  اور ایسی ہی ایمرجنسی میں استعمال کیلئے رکھی گئی تھی۔ میری گھر والی مکمل طور پر گنے کے رس میں بھیگی ہوئی تھی۔ حتی کہ اس کی پلکوں سے بھی گاڑھا رس ٹپک رہا تھا۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا ہمارے عملے کی دو لڑکیاں سری دارا کے ساتھ وین کی طرف دوڑیں۔ جونہی دروازہ بند ہوا، وین تیزی سے گردوغبار کے بادلوں میں غائب ہو کر برُوُتھا جنکشن کی طرف روانہ ہو گئی۔

۲

مجھے بتایا گیا کہ سارا معاملہ سری گالا ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا ۔ سچ کہوں تو ابھی انہوں نے سری دارا کو وین میں بھی نہیں ڈالا تھا کہ جنگل سے سرخ لپکوں والے شعلوں کی سی کانوں کو چیرتی ہوئی چیخ سنائی دی۔ تبھی میں سمجھ گیا تھا کہ وہ اب جیتی جاگتی گھر نہیں لوٹے گی۔ وہ اب جنازے کے نقاروں کی ہمراہی ہی میں اپنا گھر چھوڑ پائے گی۔

فیکٹری کہاں سے آئی؟ کیا بتاؤں؟ ہم اردگرد کے گاؤں دیہات  والوں کے دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری ہم پر کھاتاراگاما کے جنگل سے آئے کسی گہرے سیاہ بادل کی طرح نازل ہوئی  تھی اور آن کی آن میں ہماری نظروں کے سامنے اس کی جڑیں پلوتے² کے پورے علاقے میں پھیل چکی تھیں…کسی شہد کے مٹکے کے گرد جمع ہو جانے والی چیونٹیوں کی طرح پیسے کی مقناطیسی کشش ہم سب کو جوق در جوق کام کی تلاش میں فیکٹری کی طرف کھینچ لائی۔ جب تک ہمیں کچھ پلے پڑا کہ آخر  کیا ہو رہا ہے تب تک خود مینک دریا بھی الٹے دھاروں فیکٹری کی طرف چلنے لگا تھا…ہم سے تو مزاحمت کی توقع فضول تھی۔

۳

جس دن سے ہم نے اسے بتالا کے قبرستان کی خموشی میں اتارا …اس بات کو بھی پورے تین مہینے ہو چلے ہیں…سمجھو نیند مجھ سے روٹھ گئی۔ جب بھی آنکھیں موندتا ہوں وہ مجھے دکھائی دیتی ہے۔ میرے نتھنے شکر کی چپچپی ٹافی کی ابلتی بو سے بھر جاتے ہیں۔ وہ کسی روح کی طرح ہمارے باغ میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ کونے میں لگے جافنا آم کے پیڑ کے نیچے۔ اور بس چپ چاپ ہی ظاہر نہیں ہوتی، گالیاں دیتی ہے، پھٹکارتی ہے۔ وہ اور گالیاں!جیتے جی کبھی اس نے کسی کو گالی نہیں دی تھی۔

!خدا کی مار پڑے …جل گئی میں

!پانی! کوئی پانی لاؤ

گنے کا رس میرے اندر جل رہا ہے۔

وہ مسلسل چیخے چلی جاتی ہے۔ ایک لمحے کو بھی چین نہیں لینے دیتی۔ بس اس وقت سے کوئی سکون کوئی آرام نہیں۔ صبح ہوتے تک بےخوابی کے مارے میرا سر چکرانے لگتا ہے۔ میں نے ذرا سا سونے  کیلئے ایک دوا ڈھونڈ لی ہے۔ کام کی شفٹ ہو یا نہ ہو میں اپنی چٹائی پر اسپیشل کی پوری بوتل چڑھا جانے کے بعد ہی دراز ہو پاتا ہوں جو میں راتھنائیکے کے غیرقانونی اڈے سے اپنی دھوتی کی تہوں میں چھپا کر لاتا ہوں۔ صبح کو میں اس کے آخری قطرے حلق میں انڈیلتا ہوں، کُمبوکن ندی کی نرم ملائم ریت سے دانت مانجتا ہوں اور رینگتے رینگتے فیکٹری چلا جاتا ہوں۔ ویسے بھی اب بڑی لڑکی اس قابل ہو چکی ہے کہ چھوٹی کا خیال رکھ سکے اور اسے اپنے ساتھ اسکول لے جائے۔

۴

مہاپنڈت، اسکول کے پرنسپل صاحب، گاؤں کے مُکھیا، وہ سبھی ایک ہی طرح کی صلاح دیتے ہیں۔ مندر جاؤ، بڑ کے مبارک پیڑ کے نیچے بیٹھو، ذہنی سکون کیلئے مراقبہ کرو۔ صحیح ہی تو ہے۔ مذہب ہی تو اصل دوا ہے۔ اس سے مجھے چین مل جانا چاہیئے۔ مگر جب بھی اپنی آنکھیں موندتا ہوں تو مجھے دس منٹ سے زیادہ آرام نہیں ملتا۔ پہلے تو سری دارا کی چیخیں کانوں میں پڑتی ہیں۔

جل گئی میں

پانی لاؤ

گنے کا رس میرے اندر اُبل رہا ہے۔

کمبوکن ندی کا ٹھنڈا پانی ڈالو مجھ پر۔

اب چھ مہینے ہونے کو آئے اور اس کی آواز کا بین اب بھی جاری ہے۔ مجھے ایک پل کو بھی چین نہیں کہ دو گھڑی سو سکوں، ذہنی انتشار ختم کر سکوں۔ اب یہ صرف میری عورت ہی کا معاملہ نہیں بلکہ وہ سب لوگ بھی جن سے ان کا جیون وقت سے پہلے چھین لیا گیا، میری سری دارا سے بھی پہلے ، وہ سب میرے سامنے آ کر روتے ہیں، بین کرتے ہیں، پھٹکارتے ہیں۔ کچھ عرصے سے تو وہ مجھ سے اپنی  نہ تھمنے والی اذیت کو روک دینے  کو بھی نہیں کہتے جسے انہیں اپنی آخری سانس تک جھیلنا پڑا۔ اب وہ بس یہ کہتے ہیں… یہ کہ۔۔۔

ایّا³ ہمیں فیکٹری کی وہ کبھی نہ تھمنے والی گڑگڑاہٹ چین نہیں لینے دیتی۔ اب تو تمہاری سری دارا بھی یہاں ہمارے درمیان آ لیٹی ہے ، اس لئے، اس لئے ہم تم سے التجا کرتے ہیں کہ اس مسلسل گرج کو روک دو۔

تو کون سا مراقبہ اور کیسا مذہب؟ ایک ایسے دیہاتی کے طور پر جس کیلئے اب اس دنیا میں اور کچھ نہیں رہا میں آہستگی سے آنکھیں موندتا ہوں اور غیرقانونی مال کے گھونٹ بھرنے لگتا ہوں۔

۵

اب یہ بھی نہیں کہ انہوں نے ہماری کوئی مدد  نہ کی ہو۔ مجھ سے کوئی اکیس بیس الگ الگ فارموں پر انگوٹھا لگوا کر فیکٹری نے مجھے ہرجانے کے طور پر تیس ہزار روپیہ دے دیا۔ جب یہ خبر گاؤں میں پھیلی تو ہمارے مندر کے مہاپنڈت ملنے کیلئے آئے۔

کہنے لگے، مورتوں والے کمرے کی بائیں دیوار پر اویچی دوزخ⁴ کی تصویریں نامکمل ہیں۔ انہیں ختم کرنے کیلئے کم از کم پچاس ہزار روپیہ مزید چاہیئے ہوگا۔ گونیرس، اگر تم باقی کے کام میں سری دارا کے نام پر اپنا حصہ بٹاؤ تو اس  کے صلے میں آئندہ کبھی کسی اور جیون میں وہ ایسی بےوقت موت نہیں مرے گی۔ بیوی کے نام پر اس سے بڑا کام کیا ہوگا۔

پنڈت جی کا پرارتھن سن کر میں نے دس ہزار روپیہ مندر کو دے دیا۔ باقی کا سب اپنی چھوٹی لڑکی کے بنک کھاتے میں رکھ دیا۔ آخر اسے ابھی کئی برسوں تک اسکول جاری رکھنا ہے۔

۶

میں نے بتایا تھا نا… کہ فیکٹری دیکھتے ہی دیکھتے نجانے  کہیں سے نمودار ہو گئی  تھی۔ ساتھ ہی کماد کی اگائی شروع ہو گئی …ہیلی کاپٹر؟ ہاں … فیکٹری کے نمودار ہونے سے پہلے تین مہینے  تک ایک ہیلی کاپٹرہمارے  گاؤں کے اوپر منڈلاتا رہا۔ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ پانچ سال کے دوران جوان سے لے کر بوڑھے تک ہر شخص فیکٹری میں کام  کرنے لگا، چاہے وہ کام گنے کے پھوگ کی صفائی ہی کیوں نہ ہو۔ گنے کی دھول جمع کرنے کیلئے بھی ایک خاص ٹیم بھرتی کر لی گئی تھی۔ ان کی زبانیں تازہ پانی کے تالابوں کی کورالی اور لُولا مچھلی کی بجائےٹین میں بند گلابی سامن کی عادی ہو گئیں۔کیا کہا؟ تازہ پانی کی مچھلی میں ٹین بند سامن سے زیادہ غذائیت ہوتی ہے؟ سارڈین سے بھی زیادہ؟ یہ بات کسے بتانا چاہتے ہو؟ کون سی غذائیت؟ اب تو ہمارے گاؤں کو مچھلی  سے بھی زیادہ ٹین والی ڈبیا زیادہ بھاتی ہے اور اس کے گرد لپٹا کاغذ جو ڈبیا میں کیا کیاہے اس کی تشہیر  کرتاہے۔ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں یہ سوچتے ہیں کہ وہ واقعی میں چمکیلے کاغذ میں لپٹی روپہلی مچھلی کھا رہے ہیں۔ حتی کہ ہمارے گاؤں کے بڑے سیانے بھی … بات بھی تو  صحیح ہے۔ اب تازہ پانی کے تالاب  ملتے ہی کہاں ہیں؟ ندی نالے … میں نے بتایا نہیں کیا؟ ایک دن فیکٹری کا ظہور ہوا اور دوسرے ہی دن  سب کے سب چشمے سوکھ گئے۔ ایسا سوکھا پڑا کہ رات کے پچھلے پہر جب گلیوں میں روحیں راج کرتیں، بوڑھے پیڑ پانی کی کھوج میں نکل پڑتے۔ ہاں۔ مجھے کون کا ایک ایسا درخت بھی نظر آیا جس نے کمپنی کی زمین میں جڑیں ڈال لی تھیں۔ پانی کی کھوج کے بعد وہ باڑ کے پاس اپنی پرانی جگہ کو کھسک رہا تھا۔ مینک دریا سے جڑے کسی چشمے کا پانی نہ ملا تو اس نے  انچ انچ کھسکتے ہوئے کودا ندی کا رخ کیا اور تب وہ آدھی رات کو اپنی پیاس بجھا کر واپس لوٹ رہا تھا۔

پرسوں جب صبح کا ستارہ افق پہ نمودار ہوا …تو جھلساتی گرمی کے مارے میری آنکھ کھل گئی۔ میں صحن کے دوسری طرف گھر کے پیچھے بے چھت کے باورچی خانے کی طرف جا رہا تھا کہ وہاں پڑے پانی کے مٹکے سے ہونٹ بھگو لوں کہ مجھے چالیس فٹ لمبا بُرُوتھا کا پیڑ دکھائی دیا جو لکڑہاروں سے بچتا بچتا وہاں آن نکلا تھا، اور اب سلاکندا ندی کے کنارے اپنی پیاس بجھا کر واپس رینگ رہا تھا۔

۷

وہاں … اگر تم اپنے کان فرش کے تختوں پر لگا کر دھیان سے سنو تو … وہ تمہیں بولتے سنائی دیں گے۔ وہ سب کے سب۔ الگ الگ دھنوں میں، الگ الگ ڈھنگ سے۔ مگر سب ایک ہی سندیسہ دینا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ بتالہ کے قبرستان میں سوئے ہوں، ولاوایا کے قبرستان میں یا ولاسہ کے کھیت کے پاس والے قبرستان میں۔ وہ سب یہی کہتے ہیں کہ فیکٹری کا نہ تھمنے والا اور زمین کو دہلا دینے والا شور انہیں چین نہیں لینے دیتا۔ تمہیں سنائی دیا نا؟ سری دارا بھی اس ہجوم کا حصہ ہے، چیخ کر کہتی ہے،ان سے کہو وہ چیختی چنگھاڑتی موٹر بند کر دیں جو ماں دھرتی میں بھونچال لاتی ہے اور ہمارے منہ میں مٹی بھر دیتی ہے… تمہیں ان کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں نا؟ وہ کہتی ہے … اسے روکو … جلا دو اسے… روک دو۔ ورنہ  ہر طرف اور فیکٹریاں کارخانے بھی نکل آئیں گے اور ہم سب کو نگل لیں گے ۔ ایک رات کی نیند بھی حرام کر دیں گے۔ جیتے جاگتوں کی نیندیں بھی چھین لیں گے۔ آسمان سے اور فیکٹریاں ٹپک پڑیں گی… وہ بول رہے ہیں… وہاں …وہاں … سری دارا کہہ رہی ہے ہم تو بس مزدور ہی ہیں۔ ان فیکٹریوں کے مالک دھرتی ماں کا پانی چوس لیتے ہیں۔ ہمارے کنووں… ہماری مٹی کا رس چوس کر اپنے دیسوں میں لے جاتے ہیں۔

ارے دیکھو تو! اپنا بدن گنے کے تپتے رس میں لپیٹ کر سو جانے کے بعد ہماری سری دارا کو ان باتوں کا کتنا گیان ہو گیا ہے۔ اچنبھے کی بات ہے نا! جیتے جی اگر کوئی چیونٹی بھی پانی میں جا گرتی تو وہ اسے بچا لیتی… کتنی کٹھور ہو گئی ہے وہ۔ شاید اس لئے کہ اسے مرنا پڑا، تپتے ہوئے سرخ شہد کی گرمی جھیلنا پڑی جس نے جیتے جی اس کی کھال جھلسا دی، شاید اسی لئے وہ اب ایسے چیخ چلا رہی ہے… مجھے نہیں لگتا کہ  یہ دردناک داستان سن سن کر میں چپ رہ سکوں گا۔

۸

وہ دور تک پھیلی باریک ذروں والی ریت پر چلتارہا،کبھی کبھار پانی کے چھوٹے چھوٹے جوہڑوں کو پھلانگتا جن میں ہلکی پیلی چاندنی جھلک رہی تھی۔ کبھی کبھی پیروں سے کسی مردہ مچھلی کو ریت میں دبا دینے کیلئے رک جاتا جس کی گلتی سڑتی چمکتی ہوئی نرم ملائم جلد مکھیوں کے ہجوم تلے دبی ہوتی۔ اپنی خوراک کے کھو جانے پر مکھیاں کسی اور دعوت کی تلاش میں کسی اور طرف کا رخ کرتیں۔

ریتلے میدان کے آخر میں تیز وولٹیج کی ایک برقی باڑ کماد کے کھیتوں کی جنوبی سرحد کی نشاندہی کر رہی تھی جو بتالہ کی شہری آبادی تک پھیلے ہوئے تھے۔ زمین پر ندیکمبا گھاس سو رہی تھی۔ چبھتی ہوئی جھاڑیوں پر لیٹے لیٹے وہ  رینگتا ہوا اوپر لگی باڑ اور چوکیداروں کی نظر وں سے بچتا بچاتا کماد کے کھیتوں میں داخل ہو گیا۔ گنے کے پھوگ پر پیر رکھتا کسی جبلی حس کی رہنمائی میں وہ کھیتوں کے بیچ رینگنے لگا۔

رات کا آخری پہر تھا جب ناگ اور دوسرے سانپ سنپولیے بھوجن کی تلاش میں بلوں سے باہر آ جاتے ہیں۔ آدھی رات کے بعد کے اس پہر میں چاند ہاپوتالے کے پہاڑی سلسلے پر اترتا ہے اور بُدماگلویا جنگل کے جھنڈ پر صبح کا ستارہ  چمکنے لگتا ہے۔ آسمان پر اڑتے ایک ننھے سرمئی پرندے کی تیز آواز سنائی دی۔ اس نے ایک لمحہ رک کر پہلے پرندے کی طرف دیکھا جو چاندنی میں نہائے آسمان کے پار اترنے کی کوشش کر رہا تھا پھر پیچھے مڑ کر اب تک کے طے کئے فاصلے پر نظر ڈالی۔

اسے لگا کہ اس کے پہلو سے بندھا تیل کا کپا کھلنے والا تھا۔ اس نے  ہر چیز کو ساتھ جوڑے رکھنے والی سیاہ بیلٹ کو پھر سے کس لیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس نے کوئی بیس گز ہی طے کئے تھے۔شاید اتنا چلنے اور احتیاط کی وجہ سے اس کے اعصاب تناؤ کا شکار تھے۔ اسے تھکن محسوس ہوئی اور تمباکو کی طلب ہونے لگی۔ پھر اپنے آپ سے یہ وعدہ کر کے کہ سفر کے اختتام پر وہ اپنے آپ کو اس عیاشی کا تحفہ دے گا وہ پھر رینگنے لگا۔

صبح کی اوس میں جھکے جھکے گنوں کے ایک جھنڈ  میں جیسے کینچووں کی طرح جان آ گئی اور گنے کے پتے اسے ڈسنے لگے۔ درد کی ٹیس سے اس کے خون کی گردش اور دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ جوش میں وہ اور تیزی سے آگے بڑھنے لگا۔ صبح کی آمد اور نایاب مقامی پرندوں کے سنگیت پر اووا کے صوبے میں آدھی رات کا گہرا نیلا آسمان بنفشی ہونے لگا۔ اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ وہ چوکے بغیر فیکٹری کے پیچھے اگے گنے کی تنگ گلی تک رینگتا ہوا پہنچ گیا تھا۔

لو سری دارا، میں آ گیا۔ تمہارا وعدہ نبھانے۔

اپنے آپ سے بڑبڑاتے ہوئے اس نے پہلو سے بندھے تیل کے کپے کو کھولا۔ گہری سانس لے کر اس نے گنے کے موٹے تنوں سے ٹیک لگا لی۔ وہاں لیٹے لیٹے اس نے گودام میں پڑے بچے کھچے پرانے ٹائروں اور پلاسٹک کے تھیلوں کے بارے میں سوچا جو خشک گنے کے کوڑے کے ساتھ فوراً آگ پکڑ لیں گے۔ گنے کی فیکٹری بھڑکتی ہوئی آگ میں جلنے لگے گی اور اس کے ساتھ ہی سب کچھ آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اور اس شاندار تماشے کو آلیہ برانڈ کی یہ دیاسلائی شروع کرے گی۔ جب کوئی بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ماچس کی ایک طرف لگی پٹی کو رگڑتا ہے تو جو خوشبو پیدا ہوتی ہے وہ دل کو خوشی سے بھر دیتی ہے۔ اس نے آہستگی سے اپنی دھوتی اتاری، اسے مکمل طور پر مٹی کے تیل میں بھگویا اور پھر دوبارہ پہن لیا۔وہ دیا سلائی سلگانے اور پھر گودام کی آدھی دیوار پر کودنے کیلئے اٹھا۔ دیا سلائی سلگانے سے پہلےاسے لگا کہ کوئی مکوڑا اس کے کان میں گھس کر رینگنے لگا تھا۔ اس نے خارش زدہ کان کو کھجاتے ہوئے اپنا سر گھنے گنے کے جھنڈ کی طرف جھکا لیا۔

۹

“م“میرا نام گامنی رتھنائیکے ہے۔ عمر چونتیس سال۔ پتہ نمبر ۲۲ بُرُتھا جنکشن بُتالہ۔ میں عام سا پیادہ سپاہی تھا۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے میری آخری تعیناتی گجبا رجمنٹ میں تھی۔ خوش قسمتی سے ایک مشن کے دوران میری بائیں ٹانگ پر گولی لگ گئی۔ پھر مجھے فوجی بینڈ میں ڈال دیا گیا جہاں زخم اچھا ہونے کے بعد میں جنوب کا گیتابرا ڈھول بجایا کرتا تھا۔ ۵۵ برس کی عمر میں میں ریٹائر ہو گیا.”۔”

“اچھا، ٹھیک، اب یہ بتاؤ اس رات کیا ہوا تھا؟ کیا ہوا کہ تمہیں دو بار گولی چلانا پڑی؟ “

“دسویں کی صبح میں نے ایک بہت برا خواب دیکھا۔”

“ا“ارے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ولاوایا بار میں ہو کہ یوں سگریٹ سلگا لی۔ ویسے بھی یہاں خوابوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بس ہمیں یہ بتاؤ کہ تم نے گولیاں کیوں چلائیں۔ ہمیں اس واقعے کی رپورٹ لفظ بہ لفظ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہے۔”۔

“د“دس تاریخ کو شام کے ساڑھے پانچ بجے میں سائیکل پر گنے کی فیکٹری میں داخل ہوا۔میں گھر سے صرف اپنا شام کا کھانا اور سگریٹ کا پیکٹ لایا تھا۔ پانچ سگریٹ بچے تھے اس میں ابھی۔ حاضری کا رجسٹر بائیں ہاتھ کی عمارت کے آخر میں ایک کمرے میں پڑا ہوتا ہے۔ میں نے سائیکل کو پارکنگ لاٹ میں کھڑا کیا اور دفتر میں چلا گیا۔ جوتھی نے سہ پہر کی شفٹ کی نگرانی کی تھی ۔ اس نے بندوق شیلف پر رکھ کر اپنا نام حاضری کے رجسٹر پر لکھا۔ میں نے بھی اپنا نام  اس کے نام کے نیچے لکھ دیا۔ ہاں۔ عام طور پرمجھے بس تین گولیاں ملتی ہیں۔ ایک گولی لوڈ کرنے کے بعد ہم  کھیتوں کی چوکیداری کیلئے چلے جاتے  ہیں۔ ویسے تو دو سو ایکڑ کے رقبے پر پھیلے کماد کے کھیتوں کے گرد بجلی کی باڑ بھی لگی ہے اور چاروں طرف نگرانی کے کیمرے بھی لگے ہیں مگر ہمیں رات کو کم از کم ایک دفعہ پورے رقبے کی نگرانی کیلئے گشت کرنا پڑتا ہے۔ یوں سمجھیں یہ ایک رسم کی طرح ہے۔

اگر آپ چاہیں تو یہ لکھ بھی سکتے ہیں صاحب جی کیونکہ ہم گاؤں والوں کو یہ کیمروں کا فیشن آنے سے پہلے بھرتی کیا گیا تھا۔ اس لئے انہوں نے ابھی تک ہمیں کام پہ رکھا ہوا ہے کیونکہ ہم لوگ مفید ہیں نا۔ بجلی چلی جائے تو فیکٹری والوں کے پاس یہ بڑے بڑے جنریٹر بھی ہیں۔ جی صاحب جی۔ ہمارے حاضری والے رجسٹر بھی ان بڑے بڑے جنریٹروں کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں۔

جی، بجلی کی باڑ بیس پچیس سال سے کھیت کی رکھوالی کر رہی ہے اس کے باوجود جانور کھیتوں میں گھسنے کی راہ نکال ہی لیتے ہیں۔ آج کل کے جنگلی سؤروں کو مٹی کھودنا، بجلی کی باڑ کے نیچے سے رینگنا اور گنے کے کھیت کے اردگرد کیڑے مکوڑوں اور چوہے نیولے پکڑنا، سب آتا ہے۔ تیئس تاریخ کو میں رات کا آخری گشت لگا رہا تھا۔کوئی پونے چھے یا چھے بجے کا وقت ہوگا۔ میں نے ایک مور کی آواز سنی۔ مجھے پتہ ہے کہ کھاتاراگاما دیو⁵ یونہی صبح صبح  نہیں بولتے، کسی خاص وجہ کے بغیر.”۔”

“ا“اچھا اچھا اب جلدی جلدی بتاؤ۔ تمہاری بندوق سے دو گولیاں کیسے نکلیں؟ ترنت۔ ہمیں اور بھی بہت سے کام ہیں۔”۔”

“آ“آہ، اس وقت، میں فیکٹری کی مشرقی طرف تھا جہاں گنے فیکٹری کے صحن پر جھکے ہوئے ہیں۔ میں بائیں طرف سے صحن میں داخل ہونے والا تھا کہ میں نے دیکھا، گنوں کے ایک جھنڈ میں  غیرمعمولی سی ہلچل ہوئی۔ میں نے وہیں رہگذر سے دیکھا۔ یکایک بندوق میرے کندھے سے اتر کر میرے گالوں سے آن لگی تھی اور میری انگلی  اس موٹے جنگلی سؤر کا نشانہ لینے کیلئے لبلبی پر آ گئی جو منہ سے جھاگ نکالتا میری طرف دوڑ رہا تھا۔ وہ موٹا سؤر کوئی ڈیڑھ دو سو سیر کا تو ہو گا۔ جی صاحب بہت بڑا سا جانور تھا۔ آنکھوں سے لال بھورے شعلے نکل رہے تھے۔ جسم بالوں سے بھرا ہوا۔ہاتھی کے بچے  جیسا لگتا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ہوا میں میرے سامنے چھلانگ لگائی۔ تب تک میں لبلبی دبا چکا تھا۔ جب تک دھواں چھٹا میں نے بندوق دوبارہ لوڈ کر لی تھی۔ مگر گنے کی گھاس پر کوئی جانور بھی نہ گرا۔ اس بات کے ڈر سے کہ وہ چالاک جانور پھر کہیں سے نہ آن ٹپکے میں نے دوسری گولی گھاس کی طرف چلا دی۔ پتہ نہیں شاید اس وجہ سے کہ میں نے بڑے عرصے بعد، کوئی ساڑھے چار سال بعد کوئی  بندوق  ووندوق چلائی تھی، میں جھٹکے سے زمین پہ جا گرا۔ تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ اٹھا اور دیکھا کہ سورج کی پہلی کرنیں کھیتوں پر  پڑ رہی تھیں۔ میرا پورا جسم پسینے میں ڈوبا تھا۔ میں گھٹنوں کے بل اٹھا اور تیسری گولی لوڈ کی۔ مجھے ابھی تک خدشہ تھا کہ جانور حملہ کرنے ہی والا تھا۔ پھر میں نے سگریٹ کا پیکٹ نکالا۔”۔”

“ا“تمہاری سگریٹ نوشی گئی بھاڑ میں۔ یہ بتاؤ تم نے کیا دیکھا۔ کام کی بات پہ آؤ۔”۔”

“ا“میں نے دیکھا جانور کے جسم سے خون اچھل رہا تھا۔ اتنا اونچا کہ ساتھ پڑے گنے کے ڈھیر تک پہنچ رہا تھا۔ میں نے سوچا آج ہم سب، اس شفٹ پر کام کرنے والے اور آس پڑوس کے گھروں میں رہنے والے بھی جنگلی سؤر کا گوشت کھائیں گے۔ میں نے سگریٹ سلگائی  اور گنوں کے بیچ سے جھانکا۔ اب اس کے خون کا بہاؤ بہت کم ہو گیا تھا۔ پھر میں نے دیکھا گونیرس آیا نےجنگلی سؤر کی جگہ لے لی تھی ۔ وہ زمین پہ آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا، بدن پہ صرف لنگوٹ کسا ہوا تھا۔ اس کی دھوتی اس کے سینے سے چمٹا ہوئی تھی۔ پورے کی پوری بھیگی ہوئی تھی۔ شاید کپی کے تیل سے۔ اس کا دایاں کان اور سر کاحصہ پورا کچلا ہوا تھااور اس کی مانگ سے خون ٹپک رہا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے خون بند ہو گیا۔ اس کا بدن گنوں سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ کپی کے ساتھ ایک بیڑی اور آلیہ برانڈ کی ماچس کی ڈبیا تھی جو ایک طرف گر گئی تھیں۔

صاحب جی اس مور دیوتا کی قسم جس نے صبح صبح آواز لگائی تھی، قسم سے میں نے تو ایک بہت بڑے جنگلی سؤر پہ گولی چلائی تھی جو کم سے کم بھی دو سو سیر کا تھا۔ جی مجھے ابھی تک اس کے سینگ، اس کے نوکیلے دانت یاد ہیں۔ اس کی آنکھیں۔ جن سے لال بھوری چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ میں نے گونیرس آیا پر گولی نہیں چلائی صاحب جی، اس  سؤر پہ چلائی تھی، قسم سے۔ مگر جب بندوق کی گرمی اور بارود چھٹا تو وہاں گونیرس آیا پڑا تھا۔”۔

 

ا 1   سنہالہ زبان میں اکّا بڑی بہن (یا اپنے سے بڑی عورت) کو مخاطب کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ باجی، آپا۔

ا 2    پلوتے کا علاقہ سری لنکا میں گنے اور چینی کی پیداوار کیلئے معروف ہے۔

ا 3   ایا: سنہالہ زبان میں بڑے بھائی کیلئے استعمال کئے جانے والا لفظ۔ بھیا، بھائی جان۔

ا4   بدھ مت اور ہندومت میں سب سے  نچلا اور وحشتناک نرک یا دوزخ  

ا5  مقامی دیومالائی عقیدے کے مطابق مور کھاتاراگاما دیوتا کی سواری ہے اور دیوتا مور کی پکار کے ذریعے اپنا سندیس انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔

උක්පැණි සුවඳ

පියල් කාරියවසම් විසිනි

1

තක්කාලි හොද්දට පාන් කෑල්ලක් ඔබලා කටේ තියාගත්තා විතරයි පැණි කරවෙන සුවඳක් ආවා… ඒ එක්කම සීනි පැක්ටරියෙ ඇඹරුම් පාටිය දිහාවෙන් හූ සද්දයක් මතු වුණා. මං දැනගත්තා නස්පැත්තියක් තමා කියලා… මං බෙලෙක් පිඟානෙ හොදි ඩිංගටම පාන් කෑල්ල අතඇරලා දුවන්ඩ පය ඉස්සුවා… නමුත් මගේ සරුවාංගෙම වාඩි ලෑල්ලේ ඇලිලා වගේ හිට්ටා.

“හූ… හූ… හූව්… ව්… ව්…”

“සිරිදරා අක්කා… සිරිදරා අක්කා…”

ඔන්න අපේ සිරිදරාගේ නම ඇහුණා විතරයි, වාඩි වෙලා උන්න පිටලෑල්ලෙන් මගේ තුනටිය ගැලවුණා. මං දිව්වා නෙමෙයි වීසි වුණා. ඔන්න එතකොට මගේ ඇස් ඉස්සරහපිටම කොල්ලෝ කෙල්ලෝ අපේ සිරිදරාව පැක්ටේරියෙ සුවසේවා වෑන් එකට පටවනවා. උන්දෑ උණුවෙන් පැහෙන උක්පැණි වලින් නෑවිලා. ඇහිපිල්ලම් වලිනුත් උක්පැණි බේරෙනවා. මං හැරෙන්න කලියෙන් උන්දෑ එක්කම වැඩපාටියෙ කෙල්ලො දෙන්නෙක් වෑන් එකට ගොඩ වෙලා ඉවරයි. ද-ඩා-ස් ගාලා දොර වැහෙනවත් එක්කම වෑන් එක පැල්වත්ත බුරුත හන්දිය දිහාට දූවිල්ලක් මවාගෙන අන්තරස්දාන වුණා.

2

හ්… ම්… සිරිගල ඉස්පිරිතාලෙට ළං වෙනකොටත් හබක්ලු… කොයිමින් උණත් අපේ සිරිදරා එතනා වෑන් එකට පටවනකොටත්, කැලේ දිහාවෙන් පිට රතු කෑරළෙක් බෙරගහන සද්දෙ මට ඇහුණා… එතකොටම මං දැනගත්තා ආයෙ ඉතිං උන්දැ ගෙදර එන්නෙ නෑ… ගෙදරින් යන්ඩ වෙන්නේ මළබෙරත් එක්ක කියලා… 

පැක්ටේරියද? හ්ම්… ම්… අපි ගම් හතක් බලාගෙන ඉන්දැද්දි දවසක් කතරගං කැළේට උඩින් ඇදීගෙන එන මහ වැහිවලාවක් වගේ පාවීගෙන පාවීගෙන ආව පැක්ටේරිය අපේ බැල්ම යටම පැල්වත්තේ පැළ වුණා —දිගේලි වුණා… අපිත් දන්නෙම නැතුව හෙමින් හෙමින් පැක්ටේරියෙ වැඩට ඇදුණේ හරියට කිතුල් තෙලිජ්ජ වලට ඇදෙන කූඹි ගානට- එහෙ බලලා මෙහෙ බලනකොට මැණික් ගඟත් පැක්ටේරිය දිහාට ඇදුණා—අපිත් පැක්ටේරිය දිහාට ඇදුණා.

3

බුත්තල කැරකොප්පුවේ උන්දෑ නිස්කාංසුවේ නිදිකරලා ආ දවසේ ඉඳන් දැන් තුන්මාසයක් මට නින්ද යන්නේ නෑ. මගේ ඇස්දෙක පියවෙන – පියවෙන වාරයක් ගාණේ උන්දෑ පෙනී ඉන්නවා මං ඉස්සරහ. එතකොට බුල්ටෝ කුයිලයක් පැතිරෙනවා. ඔන්න ඒ එක්කම මිදුල අයිනේ යාපනේ අඹගහ යට පෙනී ඉන්නවා. මැවී පේනවා විතරක් නෙමෙයි, පළිගහන්න පටන් ගන්නවා. ජීවත් වෙලා ඉන්දැද්දි උඹ නොදකින්, නොකීව ගෑණි.

මං පිච්චෙනවෝ

මට වතුර දීපියෝ

මගේ කුස අගලේ උක්පැණි පැහෙනවෝ

කිය කියා ගෝසා කරන්න පටන් ගන්නවා… ඉතිං නින්දක් නෑ… පහන් කළුවර වැටෙනකොට මට කැරකිල්ල වගේ… හ්ම්… මං ඒකට බෙහෙතක් හොයා ගත්තා… වැඩමුරේට ගියත් නැතත් මං දැන් පිළේ පැදුරට වැටෙන්නේ රත්නායකගේ සුදුවාපොළෙන් බඩතුරේ හංගගෙන එන හොඳ ඉස්පැසල් බෝතලයක්ම බීලා… පාන්දර ඇහැරුණාම මං එහෙමම බෝතලේ තියෙන ඉතිරි කාල ගහලා කුඹුක්කන් ඔයේ සිනිඳු වැල්ලෙන් දිව මැදගෙන එහෙමම පැක්ටේරියට ගාටනවා… ඔව්… දැන් ලොකු කෙල්ලට පොඩි එකීව ලෑස්ති කරගෙන ඉස්කෝලෙට දුවාගන්ඩ පුළුවන් තනියම.

4

ලොකු හාමුදුරුවෝ… ඉස්කොලේ ලොකු මහත්තයා… ග්‍රාම සේවක මහත්තයා.. දකින දකින වෙලාවට මට භාවනා කරන්ඩ කියලා අවවාද කරනවා… ඒක ඇත්ත, ඒක තමයි ඖෂධය. ඒත් විනාඩි දහයකට වැඩිය මට ඇස් පියාගෙන සිහියෙන් ඉන්ඩ බෑ. ඉස්සෙල්ලම අපේ සිරිදරා කෑගහනවා.

මං පිච්චෙනවෝ

මට වතුර දීපියෝ

මගේ කුස අගල පිච්චෙනවෝ

කුඹුක්කන් ඔයේ වතුරෙන් මාව නාවපියෝ

කිය කියා… ඔන්න එයින් මත්තේ දැන් මාස හයක් ගතවුණ තැන මට නිකමටවත් ඇස් පියාගෙන හිත එකලාසයක් කරගෙන ඇඟේපතේ අමාරුවට ඩිංගක්වත් හෑල්ලු වෙන්ඩ බෑ… මගේ සිරිදරා එතනට කලින් අකාලේ මැරිච්ච සේරෝම උන් දැන් මට කතා කරනවා—ගතු කියනවා—යාදිනවා… දැන් දැන් උන් කියා හිටින්නේ උන්ගේ පණකෙන්ද වැමෑරෙද්දි වින්ද වේදනාව නවත්තන්න කියලා නෙමෙයි. දැන් දැන්… උන් කියන්නේ…

…අනේ අයියා… පැය විසිහතරේම හඬ දෙන පැක්ටේරියේ ගිගිරි බෑවිල්ලට අපට නින්ද යන්නේ නෑ… දැන් සිරිදරා එතනා අක්කත් අපිත් එක්ක නිදි එකේ නවත්තපං අයියා ඔය ගිගිරි – ගිනියම් පැක්ටේරියෙ හෙණ පතන බෑගිරිය…

ඉතිං මොන භාවනාවක්ද…? මං පුහුදුන් මිනිහෙක් වෙච්ච එකේ, මං හෙමින් ඇස් ඇරලා මේ ඉස්පෙසල්, සුදු පාට ඉස්පෙසල් ඩිංගක්, උගුරට හලාගන්නවා.

5

නැත්තේ නෑ… කොළ විස්සක් විතර අස්සන් කරාට පස්සේ ගිය මාසේ රුපියල් තිස්දාහක් දුන්නා, උන්දෑ වෙනුවෙන් පැක්ටේරියෙන්… ඒ එක්කම ලොකු හාමුදුරුවෝ ඒ ආරංචිය දිගේම වැඩලා,

“විහාරගෙයි වම් පැත්තේ බිත්තියේ අවීචි මහා නරකාදියෙ සිතුවම ඉවර කරගන්ඩ තව පනස්දාහක්වත් යනවා… යළිත් ඔහොම මරණයක් නොවේවායි පතලා සිරිදරා එතනගේ නමින් යම් මුදලක් ගුණේරිස් පූජා කළොත්, ඒක තමන්ගෙ මායියා වෙනුවෙන් කරන්ඩ තියෙන උතුම්ම පිංකමක් ගුණේරිස්”

කියලා දේශනා කරපු නිසා මං යාන්තමට දහදාහක් පූජා කරලා, ඉතිරිය දැම්මා කෙල්ලගෙ බැංකු පොතේ. ඒකි තව ඉස්කෝලෙ යන්ඩ එපායැ…

6

මං කිවුවනේ… මං කිවුවේ නැද්ද… පැක්ටේරිය අහසින් වැටුණා, වගේ වැටුණා… ඒ එක්කම මහා උක්කැලයක් වැවුණා… හෙලි…කොප්ටරයක්ද? ආ… ඔව්… පැක්ටේරිය වැටෙන්න කලින් මාස තුනක් තිස්සේ හෙලිකොප්ටරයක් නම් රවුමේ ගියා අපේ ගම්මණ්ඩිවලට උඩින්… ම්…ම්… ඔව් ඉතිං වෙන මොනවා කරන්නද? අවුරුදු පහකින් හැම කොල්ලම බල්ලම ඉතින් පැක්ටේරියෙ වැඩට ගියා…වල් කොටන උදැල්ල අතඇරලා උක්රොටු පිහදාන්ඩ වැඩපාටියට ගියා… කොරලි වැලක්, ලූල් වැලක් කනවට වැඩිය දෙවේලම සැමන් කන්න උන්ගෙ දිව පුරුදු වුණා. මොකද්ද…? සැමන්වලට වැඩිය මිරිදිය මාළු ගුණයි…? ඔව්වා කාට කියනවද? මොන ගුණයක්ද…? දැන් අපේ ගම්මු සැමන් මාළුවට වැඩිය කැමති සැමන් ටින් එකට – ටින් එකේ අලවලා තියන කොළේට. කොළේ පාටට – කොළේ ඉන්න රිදී පාට මාළුවම තමා මං මේ කන්නේ කියලයි අපේ කොල්ලෝ – කෙල්ලෝ – මහ උන් පවා හිතන්නේ මහත්තයා… අනිත් අතට දැන් ඉතිං කොයි, මිරිදිය දියකඩිති…? හීන් පතහවල්… පොකුණු… දොළ පාරවල්… මං කිවුවනේ, දවසක් පැක්ටේරිය වැටුණා. ඊට පස්සේ එව්වා සේරම හිඳුණා… සේරම හිඳුණා… කොච්චර හිඳුණද කිවුවොත්, මහ සොහොන් සමයමට මහගස් වතුර හොයාගෙන ඇවිදින්න ගත්තා… ඔව්… සමාගම්වත්ත මායිමේ ඉතිරි වෙලා තිබුණු කෝන්ගහක් ඊයේ මට හම්බවුණා පාන්දරම ආපහු මායිමට ගාටනවා. ගහ පාන්දර යාමේ මැණික්ගඟේ දිය පතහක් හොයාගන්ඩ බැරුව කුඩාඔය දිහාට ගාටලා වතුර බීගෙන ආපහු එනගමන්…

පෙරේදා උදාතරුව පෑව්වා විතරයි… මං පිළෙන් නැගිටලා ගිනිගත්ත තොල් තෙමාගන්න වළන්මැස්ස පැත්තට පිල්කණ්ඩිය දිගේ විසිවෙවී ගාටනකොට, මෙන්න අයින දිගේ ගාටනවා අඩි හතලිහක් විතර උස යාන්තමට ගස්පාළුවන්ගෙන් බේරිච්ච බුරුතගහක්… වතුර බොන්ඩ සෙල්ලකන්ද ඔයේ අත්තක් හොයාගෙන ගාටලා ආපහු එනගමන්…

7

…ඔන්න ඇහෙනවා… පිළේ බිමට හොඳට කන තියලා අහන්ඩ… ඔය කතා කරන්නේ… ඔක්කොම එකම හඬකින් කෑගහලා කියන්නේ, යාදින්නේ… එකම යාදින්න. උන්ට නින්ද යන්නේ නැහැල්ලු බුත්තල කැරකොප්පුවේ නින්දට වැටුණත් – වැල්ලවායේ කැරකොප්පුවක නිදා ගත්තත් – වෙල්ලස්සේ වෙල්යායක් අද්දර කැරකොප්පුවක නිදා ගත්තත් – උන්ට නින්ද යන්නේ නැතිලු මේ… මේ… පැක්ටේරියෙ මහපොළව දෙදරවන ගිගිරි බෑවිල්ලට. ඔය ඇහෙනවා නේද…? අපේ සිරිදරා එතනත් ඒ රංචුවේ ඉඳන් කෑගහනවා… නවත්තපං අයියේ ඔය පොළවම කම්පා කරවන, අපේ කටවල්වලට පස්වැටෙන ඔය මහ මෝටර් සද්දේ… කිය කියා… ඇහෙනවද…? උන්දැ කියනවා… නවත්තපන්… ගිනි තියපන්… නවත්තපන් අයියේ… නැත්තං දවසක උඹලට පණපිටින් ඉන්නකොටත් නින්දක් නිදාගන්ඩ බැරිවෙන්ඩ, තව තව පැක්ටේරි අහසින් වැටෙයි අයියේ… කිය කියා… ඔන්න… ඔන්න… සිරිදරා කියනවා… අපි කුලීකාරයෝ විතරයිලු…. මහ පොළවෙ වතුර ටිකයි… පොළවෙ සාරයයි පැක්ටේරිකාරයො උන්ගෙ රටවල්වලට අරන් යනවලු…

අප්පේ… අපේ සිරිදරා එතනා උණු පැණි එතුන ශරීරෙත් එක්කම නින්දට වැටුණට පස්සේ දැන් පණ්ඩිත වෙලා තියන තරම… අනේ මන්දා… නෑඹිලියට වැටුණ කූඹියත් හෙමින් බුලත්කොළයක් උඩින් අරන් තියන උන්දෑ දැන් දුෂ්ට වෙච්ච තරම… ගිනිරස්නෙට පැණි එක්කම හමත් දියවෙලා වැටුණ වේදනාවත් දරාගෙන ඇස් පියාගත්ත නිසා වෙන්ඩ ඇති ඔහොම කෑගහන්නේ… ඒත් ඉතින් මට තවත් නං මේ යාදින්න අහ අහ ඉවසන් ඉන්ඩ බෑ…

(මෙය රිදී රැයකි කළු දිවියෙකි කෙටිකතා එකතුවේ ඇති ‘උක්පැණි සුවඳ’ කතාවේ මුල් කොටසයි.)

Scroll to Top