آخری خط

کبھی تو جی یہ چاہتا ہے کہ اِک پیغام لکھ جاؤں

میں  اپنا  آخری خط  انسانیت کے  نام لکھ  جاؤں

نہ جانے کب ملیں پھر ہم ملیں یا نہ ملیں پھر ہم

اِسی اِک آخری خط میں کہانی تام لکھ جاؤں

وہ جو رہتے ہیں ہر پل دولتِ دنیا کی لالچ میں

اُنهى قسمت کے ماروں کو کفن کے دام لکھ جاؤں

کسی نفرت میں ڈوبے شخص کو اِک دن بلاؤں اور

پھر اُس کے نام کچھ عشق و ادب کے جام لکھ جاؤں

جنھوں نے جاہ و منصب پر حمیت وار دی اپنی

اُنهى ذلت شِعاروں کے فقط انجام لکھ جاؤں

ہزاروں شاعروں نے لکھ دیے ہیں خاص سے قصے

میں اب اِس  ریت کو بدلوں  فسانے عام لکھ جاؤں

Maryum Iqbal is a student of BS Nutrition and Dietetics PU. She is a poet, a narrator of stories unraveling around her, causing felicity or suffering. She has been writing for almost eight years in Urdu and English. About poetry she says: “Poetry is like writing a letter to the world while the true essence of it is known only by the poet.” A pen name she has fashioned for herself that represents her inner paradox is Felix Eve.

Scroll to Top