تجدید مراسم کا ہو میثاق؟ مگر کیوں؟
ہر بار اُڑانی ہے وہی خاک مگر کیوں؟

کرتا ہوں میں کیوں پیش صفائی ترے حق میں
لا شے کو بناتا تو ہوں افلاک، مگر کیوں

پل پل میں بدلتی ہوئی رت ہے مجھے درکار
ایسی متذبذب ہے مری خاک مگر کیوں

ہر ایک شرارت مرے کوچے سے گزر کر
ہنستے ہوئے ہوجاتی ہے نم ناک۔ مگر کیوں

بنتا ہی نہیں خونِ جگر زینت تحریر
پھٹتے ہیں مری جلد کے اوراق مگر کیوں

سینے کو تڑپ ہے کہ کوئی ہو ترے جیسا
ایسا ہو کوئی سادہ و چالاک مگر کیوں

ڈھب اور بیانِ غمِ دل کا ہو تضاد اب
ہر دوسرے مصرعے میں جگر چاک، مگر کیوں

Syed Mustafa Athar

سید مصطفیٰ تضؔاد ۲۰۲۰ ء سے غزل گوئی کر رہے ہیں۔ انکا تعلق کراچی سے ہے اور پیدائشی نام سید مصطفیٰ اطہر ہے۔ گو انکی شاعری میں صنعت تضاد کا استعمال کم ہے مگر ان کے تشخص میں تضاد ضرور ہے۔ تضؔاد فی الوقت اپنا ایم فِل قائدِ اعظم یونیورسٹی سے شعبہ طبیعیات میں کر رہے ہیں۔ ان کو مطالعہ میں نو کلاسیکی غزل سے دلچسپی ہے۔ مشاعروں میں انکی نمایاں خوبی ترنّم سے غزل گوئی سمجھی جاتی ہے۔

Scroll to Top